خیبر پختونخوا ہیلتھ پالیسی 2026: دنیا کا ہر مہذب ملک اسکا معاشرہ اور اسکی حکومت جب بھی اپنی پالیسیز بناتے ہیں جو انہوں نے ملک میں نافذ کرنی ہوتی ہے اس میں دفاع کے بعد جس چیز کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے وہ عوام کی صحت پالیسی ہوتی ہے کیوں کہ جس ملک کے لوگ صحتمند ہوں گے وہی ملک ترقی کرتے ہیں۔
ہم چونکہ خیبر پختونخوا کی بات کر رہے تو آئیے اسی کی ہیلتھ پالیسی کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر ماضی کی صحت کی پالیسیوں پہ نظر دوڑائی جائے تو بد قسمتی سے صورتحال کافی مایوس کن نظر آتی ہے کیونکہ اس کے دور دراز علاقے دہائیوں سے اپنی بنیادی ضروریات سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔ دور دراز پہاڑی علاقے، محدود وسائل، ڈاکٹروں کی کمی، اور غربت وہ بڑی مشکلات ہیں۔ جو مل کر صحت کی مجموعی صورتحال کو پیچیدہ بناتے رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی نئی ہیلتھ پالیسی 2026 انہی مسائل کو مدنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے، اور اگر اسے صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ صوبے کی تصویرکو مکمل تبدیل کرسکتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات اور موجودہ چیلنجز
خیبر پختونخوا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ آج بھی بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔ ضلع اپر کوہستان ہو یا چترال کے دور افتادہ گاؤں، وہاں کی حاملہ خواتین جنکو ڈیلیوری کے لیے کئی کئی گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے۔
بچوں میں غذائی قلت اور بروقت ویکسینیشن نہ ملنے کی وجہ سے شرح اموات ابھی بھی قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ بد قسمتی سے ماضی کی پالیسیوں پہ صرف کاغذوں پر ہی عمل ہوا مگر عملی طور پہ ان کا نفاذ اکثر ادھورا رہا۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے 2026 کی پالیسی کو ایک نئے انداز سے ترتیب دیا گیا ہے۔
اس پالیسی کی تیاری میں صوبائی محکمہ صحت، عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی مشاورت شامل رہی ہے۔ مقامی کمیونٹیز سے بھی رائے لی گئی، جو کہ پہلے شاید ہی ہوتا تھا۔ یہ اپنے آپ میں ایک مثبت قدم ہے۔
خیبر پختونخوا ہیلتھ پالیسی 2026 کے بنیادی مقاصد
اس پالیسی دستاویز کے مطابق اس کے چند واضح اور قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ انہیں سمجھنا ضروری ہے تاکہ ہم بعد میں جائزہ لے سکیں کہ کتنا کام ہوا اور کتنا رہ گیا۔
- زچہ اور بچہ کی شرح اموات میں کمی: 2026 تک صوبے میں زچگی کے دوران اموات کی شرح کو 30 فیصد تک کم کرنا پالیسی کا مرکزی ہدف ہے۔ اس کے لیے ہر ضلع کی سطح پر کم از کم ایک ماہر امراض نسواں کی تعیناتی لازمی قرار دی گئی ہے۔
- بنیادی صحت مراکز کی بحالی اور اپگریڈیشن: صوبے میں سینکڑوں بی ایچ یوز بند پڑے تھے یا عملے کی کمی کا شکار تھے۔ پالیسی میں ان سب کو فعال کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔
- ذہنی صحت کو مرکزی دھارے میں لانا: یہ شاید اس پالیسی کا سب سے اہم نیا پہلو ہے۔ پہلی بار ذہنی صحت کو بنیادی صحت دیکھ بھال کا حصہ بنانے کا باقاعدہ منصوبہ ہے۔
- ڈیجیٹل صحت نظام: مریضوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنا، ٹیلی میڈیسن کو فروغ دینا اور دور دراز علاقوں میں آن لائن مشاورت کی سہولت دینا۔
- صحت بیمہ کی توسیع: سیہت کارڈ پروگرام کو مزید خاندانوں تک پہنچانا اور اس میں شامل بیماریوں کی فہرست کو وسیع کرنا۔
دیہی علاقوں کے لیے خصوصی توجہ
خیبر پختونخوا کی آبادی کا تقریباً 80 فیصد حصہ دیہی علاقوں پہ مشتمل ہے، اور یہی علاقے صحت کی سہولیات سے سب سےزیادہ محروم ہیں۔ نئی پالیسی میں دیہی علاقوں میں صحت کے لیے ایک الگ حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ موبائل ہیلتھ یونٹس کا تصور نیا نہیں، لیکن اس بار انہیں باقاعدہ روٹ، ماہانہ شیڈول اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ساتھ چلانے کا ارادہ ہے۔

اس کے علاوہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد میں اضافہ اور انہیں بہتر تربیت دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ایک سادہ سی بات جو سوچنے پہ مجبور کرتی ہے کہ اگر باجوڑ یا ٹانک کے کسی گاؤں میں تربیت یافتہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے مراکز میں ہر وقت موجود ہوں اور مریضوں کی بروقت تشخیص کر سکیں، تو ایسے کتنی ہی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ اور اسکے ان علاقوں پہ بہت مثبت اثرات ظاہر ہوںگے۔
ذہنی امراض کیلئے الگ شعبوں کا قیام
پاکستان میں ذہنی صحت کے بارے میں ابھی بھی بات کرنا معاشرتی طور پر بہت مشکل سمجھا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا، جو دہائیوں کے جنگی اثرات، تنازعات اور آفات سے گزرا ہے، وہاں پی ٹی ایس ڈی، ڈپریشن اور اضطراب کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر انکے علاج کیلئے دستیاب سہولیات نہ ہونے کے برابر رہی ہیں۔
2026کی پالیسی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں ذہنی صحت کا الگ شعبہ قائم کیا جائے گا۔ تربیت یافتہ نفسیاتی مشیروں کی تعیناتی اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہم کو بھی اس حکمت عملی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ جو بہت قابل ستائش عمل ہے، کیونکہ جب تک ذہنی صحت کو جسمانی صحت جیسا درجہ نہیں ملتا، کوئی بھی صحت پالیسی مکمل نہیں ہو سکتی اور نا ایک صحتمند معاشرہ بن سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم اور ٹیلی میڈیسن
آج کے جدید دور میں جب اے آئی اور ٹیکنالوجی کی ترقی عروج پہ ہے، لوگوں کا مختلف بیماریوں کے بارے میں گوگل اور آنلائن ویب سائٹس پہ سرچ کرنا عام ہو چکا ہے، وہی اب صحت کا نظام بھی ڈیجیٹل ہونا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا ہیلتھ پالیسی 2026 میں ایک مرکزی ڈیٹا بیس بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے جہاں مریض کی پوری طبی تاریخ محفوظ ہو۔ اس سے نا صرف علاج میں بہتری آئے گی بلکہ محکمہ صحت کو اعداد و شمار بھی ملیں گے جو مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے مددگار ثابت ہوں گے۔
نئی پالیسی میں ٹیلی میڈیسن کے شعبے کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے تاکہ پسماندہ علاقوں تک صحت کی سہولیات پہنچائی جا سکیں۔ مثال کے طور پر، اگر سوات کے کسی دُور افتادہ گاؤں کا کوئی مریض ویڈیو کال کے ذریعے پشاور کے کسی ماہر ڈاکٹر سے براہِ راست مشاورت کر سکے، تو یہ خطے میں طبی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
لیکن اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ اور بجلی کی مسلسل فراہمی ناگزیر ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی میں محکمہ صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے کے مابین باہمی اشتراک اور ہم آہنگی کے فروغ پہ خصوصی زور دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کا انقلابی صحت کارڈ پروگرام
خیبر پختونخوا کا صحت کارڈ پروگرام جو اپنے افتتاح سے ہی خاصی داد وصول کر چکا ہے۔ لاکھوں خاندانوں کو اس کے ذریعے مفت علاج ملا۔ لیکن اس میں ابھی بھی بہت سی خامیاں تھیں، جیسے کچھ بیماریاں کا علاج اس میں شامل نہیں تھا، کچھ ہسپتال فہرست میں نہیں تھے، اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کو کارڈ بنوانے میں بھی دشواری ہوتی تھی۔
نئی پالیسی میں ان مسائل کو دور کرنے پہ بطور خاص توجہ دی گئی ہے۔ کینسر، دل کی بیماریاں اور ذیابیطس کی پیچیدگیوں کو بھی صحت کارڈ کے دائرے میں لانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر یہ ہو جائے تو یہ واقعی بہت بڑی بات ہوگی، کیونکہ یہی بیماریاں سب سے زیادہ مہنگی ہیں اور غریب خاندانوں کی کمر توڑ دیتی ہیں۔
پالیسی کے نفاذ میں چیلنج
کوئی بھی پالیسی صرف کاغذ پر اچھی لگ کر کام نہیں کرتی۔ خیبر پختونخوا کو پالیسی نافذ کرتے وقت کچھ بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جن کا ذکر کرنا ضروری ہے۔
مالی وسائل کی کمی۔ پالیسی کے اہداف بڑے ہیں مگر صوبائی بجٹ محدود ہے۔ وفاقی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون کے بغیر یہ پالیسی مکمل کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
افرادی قوت کا بحران۔ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف دیہی علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں، اور یہ ایک پرانا مسئلہ ہے جس کا حل صرف تنخواہ بڑھانے سے نہیں آئے گا بلکہ مراعات، رہائش اور تحفظ کا بھی انتظام کرنا ہوگا۔
بدعنوانی اور احتساب کا نظام۔ جب تک محکمہ صحت میں شفافیت نہیں آتی اور ہر خرچ کا حساب نہیں ہوتا، پالیسی کو کامیابی سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
عوامی آگاہی بہت سے لوگ اب بھی اس بات سے ناواقف ہیں کہ ان کے قریبی ہیلتھ سینٹر پہ کون سی طبی سہولیات میسر ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نظام کے بارے میں عوامی آگاہی پھیلانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ خود یہ سہولت فراہم کرنا۔
نوجوانوں اور خواتین کے لیے خصوصی پروگرام
خیبر پختونخوا کی اکثریتی آبادی نوجوانوں پہ مشتمل ہے، 60 فیصد سے زیادہ لوگ 30 سال سے کم عمر کے ہیں۔ اس نوجوان آبادی کی صحت کا خیال رکھنا مستقبل کی بنیاد ہے۔
پالیسی میں نوجوانوں کے لیے تولیدی صحت کی تعلیم، منشیات کی روک تھام اور ذہنی صحت کے خصوصی پروگرام شامل کیے گئے ہیں۔
خواتین کے لیے مادری صحت کے علاوہ سروائیکل کینسر کی اسکریننگ اور غذائیت کے پروگرام بھی پالیسی کا حصہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہر سال ہزاروں خواتین سروائیکل کینسر سے متاثر ہوتی ہیں، اور ان میں سے بیشتر کو بروقت تشخیص کا موقع نہیں ملتا۔ اگر یہ اسکریننگ پروگرام زمینی سطح پر چل جائے تو بہت سی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
وعدوں سے عمل تک: مانیٹرنگ اور عوامی شفافیت
ہر پالیسی کی کامیابی کا انحصار اسکے ساتھ جڑے مخلص لوگوں کی محنت اور چیک اینڈ بیلینس کا ہونا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی کے نفاذ کے لیے ایک واضح ٹائم لائن مقرر ہو، ہر ہدف کے لیے جوابدہی طے کی جائے، اور سالانہ بنیادوں پر عوامی رپورٹس جاری کی جائیں۔ اس پورے مانیٹرنگ سسٹم میں سول سوسائٹی، میڈیا اور مقامی حکومتوں کو شامل کرنا انتہائی ضروری ہے۔
بالآخر یہ پالیسی اسی وقت کامیاب کہلائے گی جب اس کے مثبت نتائج پشاور کے بڑے ہسپتالوں تک محدود رہنے کے بجائے دیر، شانگلہ اور کرم کے دور دراز دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں میں نظر آئیں گے۔
جب ایک ماں کو محفوظ زچگی کی سہولت ملے، ایک بچے کو وقت پر ویکسین دستیاب ہو، اور ایک نوجوان کو ذہنی صحت کے لیے فوری طبی امداد مل سکے— تو یہی کسی بھی ہیلتھ پالیسی کی اصل کامیابی اور حقیقی روح ہوگی۔
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرنے کے اقدامات کے بارے میں جائے اس آرٹیکل میں۔
خلاصہ
خیبر پختونخوا ہیلتھ پالیسی 2026 ایک جامع حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد صوبے میں صحت کے نظام کو بہتر بنانا، خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اس پالیسی میں زچہ و بچہ کی صحت، بنیادی مراکز کی بحالی، ذہنی صحت کو شامل کرنا، ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم اور سیہت کارڈ پروگرام کی توسیع جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔
اگرچہ پالیسی کے اہداف واضح اور امید افزا ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کے لیے مالی وسائل، تربیت یافتہ عملہ، شفاف نظام اور عوامی آگاہی جیسے چیلنجز کو حل کرنا ضروری ہوگا۔ اس پالیسی کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہوگا کہ اس کے اثرات دور دراز علاقوں کے عام لوگوں کی زندگی میں بہتری کی صورت میں نظر آئیں۔