لوڈ ہو رہا ہے... | 🌤 پشاور: 38°C
خیبر پختونخوا

پشاور BRT (زو پشاور): روٹس، کرایہ، ٹکٹنگ اور مکمل گائیڈ

🔊 یہ خبر سنیں — ElevenLabs آڈیو
پشاور BRT (زو پشاور): روٹس، کرایہ، ٹکٹنگ اور…

پشاور BRT (زو پشاور): پشاور   کا شمارپاکستان کے قدیم ترین اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں شامل ہونے سے پہلے ہی پشاور قدیم تہذیب، روایات اور کاروباری سرگرمیوں کا ایک قدیم مرکز رہ چکا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران  بتدریج آبادی میں مسلسل اضافے، شہری حدود کی توسیع اور نجی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہر کے ٹریفک نظام کو شدید دباؤکا نشانہ بنایا ۔ خاص طور پر یونیورسٹی روڈ، جی ٹی روڈ، صدر، خیبر بازار، چارسدہ روڈ، کوہاٹ روڈ اور حیات آباد جیسے اہم شاہراہوں پر روزانہ طویل ٹریفک جام معمول بن چکے تھے۔

پشاور BRT (زو پشاور)

BRT منصوبے سے پہلے پشاور میں عوام کانقل و حرکت کا انحصار زیادہ تر پرانی ویگنوں، منی بسوں، فلائنگ کوچز اور رکشوں پر تھا۔ یہ گاڑیاں نہ صرف غیر منظم انداز میں چلتی تھیں بلکہ ان کے مقررہ اوقات، روٹس اور معیارِ سفر بھی اکثر شدید پریاشانی کا سبب تھا۔ نتیجتاً مسافروں کو گھنٹوں انتظار، شدید رش، غیر معیاری سہولیات اور طویل سفری اوقات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

ٹریفک کی اس بے ہنگم صورتحال کا ایک بڑا سبب مختلف اقسام کی گاڑیوں کا ایک ہی سڑک پر چلنا بھی تھا۔ بسیں، ویگنیں، رکشے، موٹر سائیکلیں، نجی گاڑیاں اور مال بردار ٹرک ایک ہی لین استعمال کرتے تھے، جس سے ٹریفک کا بہاؤ بار بار متاثر ہوتا اور رش میں مزید اضافہ ہو جاتا تھا۔ اس کے علاوہ پارکنگ کے ناقص انتظامات، غیر قانونی تجاوزات اور سڑکوں کی محدود گنجائش بھی ٹریفک مسائل کو مزید سنگین بناتی تھی۔

ان حالات میں شہریوں، طلبہ، سرکاری ملازمین اور کاروباری طبقے کو روزانہ سفر کے دوران وقت اور وسائل کا بڑا نقصان برداشت کرنا پڑتا تھا۔ فضائی آلودگی، ایندھن کا زیادہ استعمال اور سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات بھی اہم مسائل میں شامل تھے۔

انہی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت نے ایک ایسے جدید عوامی ٹرانسپورٹ نظام کی منصوبہ بندی کی جو شہریوں کو تیز، محفوظ، آرام دہ اور قابلِ اعتماد سفری سہولت فراہم کر سکے۔  شہریوں کی سہولت اور آسانی کیلئے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT)، یعنی “زو پشاور” منصوبہ شروع کیا گیا، جس نے شہر کے ٹرانسپورٹ نظام میں ایک نئی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔

پشاور BRT کا پس منظر اور آغاز

پشاور کا بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT) نظام، جسے عام طور پر “زو پشاور” (Zu Peshawar) کے نام سے جانا جاتا ہے، خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قائم ایک جدید، تیز رفتار اور ماحول دوست عوامی ٹرانسپورٹ نظام ہے۔ پشتو زبان میں “زو” کا مطلب “چلو چلیں” ہے، جو شہریوں کو آسان، محفوظ اور بروقت سفر کی سہولت فراہم کرنے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ منصوبہ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے مالی تعاون سے مکمل کیا گیا اور پاکستان میں متعارف کرایا جانے والا چوتھا بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ہے۔ منصوبے پر تعمیراتی کام نومبر 2017 میں شروع ہوا جبکہ اس کا باضابطہ افتتاح 13 اگست 2020 کو کیا گیا۔ ابتدا میں اس کی تخمینہ لاگت تقریباً 41 ارب روپے رکھی گئی تھی، تاہم مختلف تکنیکی تبدیلیوں، اضافی تعمیراتی کاموں اور دیگر اخراجات کے باعث حتمی لاگت بڑھ کر تقریباً 71 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

تعمیراتی مرحلے کے دوران لاگت اور تاخیر کے باعث عوامی اور سیاسی بحث کا موضوع بھی رہا، تاہم افتتاح کے بعد زو پشاور نے مختصر وقت میں لاکھوں شہریوں کے لیے روزمرہ سفر کو آسان بنایا اور آج یہ خیبر پختونخوا کے جدید ترین عوامی ٹرانسپورٹ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

کاریڈور کی ساخت اور انسفراسٹرکچر

زو پشاور کا مرکزی کاریڈورجو تقریباً 27.6 کلومیٹر طویل ہے، شہر کے مشرقی علاقے چمکنی سے مغربی علاقے کارخانو مارکیٹ/حیات آباد تک پھیلا ہوا ہے ، اس پر  پہلے فیز میں 30 جدید اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ کاریڈور پشاور کے اہم تجارتی، تعلیمی اور رہائشی علاقوں کو آپس میں جوڑنے کا ایک اہم زریعہ ہے، اور شہریوں کو تیز، محفوظ اور باقاعدہ سفری سہولت کی فراہمی کا سبب بھی ۔

alt text : بی آر ٹی کاریڈور کی ساخت

اس کاریڈور کی تعمیر تین مختلف انداز میں کی گئی ہے:

·       ایلیویٹڈ (بلند) سیکشن: تقریباً 13.7 کلومیٹر، جو صدر، خیبر بازار، یونیورسٹی روڈ اور دیگر مصروف علاقوں سے گزرتا ہے۔

·       زمینی سطح کا سیکشن: تقریباً 10.5 کلومیٹر، جہاں بسیں خصوصی مختص لینز میں چلتی ہیں۔

·       زیرِ زمین انڈر پاسز: تقریباً 3.4 کلومیٹر، جو بڑے چوراہوں اور مصروف ٹریفک مقامات پر ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں۔

مرکزی کاریڈور کے علاوہ زو پشاور کے ساتھ ایک ذیلی وسیع فیڈر روٹ نیٹ ورک بھی منسلک ہے، بسیں مرکزی روٹ سے نکل کر شہر کی مختلف رہائشی آبادیوں، تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز اور مضافاتی علاقوں تک شہریوں کو آسان رسائی فراہم کرتی ہیں۔

2026 تک زو پشاور کے بیڑے میں 244 جدید ہائبرڈ الیکٹرک بسیں شامل ہیں، جو کم ایندھن خرچ کرتی ہیں، ماحول دوست ہیں اور شہریوں کو آرام دہ سفری سہولت فراہم کرتی ہیں۔

موجودہ روٹس

جون 2024 میں DR-14 فیڈر روٹ کے باضابطہ  افتتاح کے بعد زو پشاور کے فعال روٹس کی مجموعی تعداد 16 ہو چکی ہے۔ یہ نیٹ ورک شہر کے تقریباً تمام اہم رہائشی، تعلیمی، تجارتی اور مضافاتی علاقوں کو مرکزی کاریڈور سے منسلک کرتا ہے۔

مرکزی کاریڈور (Trunk Corridor)

یہ چمکنی سے کارخانو مارکیٹ تک تقریباً 27.6 کلومیٹر طویل مرکزی روٹ ہے، جس پر SR-02، ER-01 اور SR-08 جیسی سروسز چلائی جاتی ہیں۔SR (Stopping Route) تمام اسٹیشنز پر رکتی ہے، جبکہ ER (Express Route) صرف اہم اسٹیشنز پر رکتی ہے۔ ایکسپریس سروس کے لیے خصوصی پاسنگ لینز بھی بنائی گئی ہیں تاکہ تیز رفتار بسیں عام رکنے والی بسوں سے آگے نکل سکیں اور مسافروں کا وقت بچایا جا سکے۔

سپر ایکسپریس سروس (XER-15)

XER-15 سپر ایکسپریس روٹ چمکنی سے مال آف حیات آباد تک سفر مکمل کرتا ہے اور یہ راستے میں صرف چند اہم اسٹیشنز پر رکتی ہے۔اہم اسٹیشنز میں شامل ہیں:سردار گڑھیملک سعد شہید اسٹیشنیونیورسٹی آف پشاورمال آف حیات آبادیہ سروس عام طور پر پیر سے جمعہ تک صبح اور دوپہر کے مصروف اوقات میں چلائی جاتی ہے تاکہ رش کے اوقات میں مسافروں کو کم وقت میں منزل تک پہنچایا جا سکے۔

ڈائریکٹ/فیڈر روٹس (DR Series)

فیڈر روٹس زو پشاور کے مرکزی کاریڈور کو شہر کے مختلف علاقوں سے جوڑتے ہیں۔ یہ روٹس حیات آباد، اندرون شہر (والڈ سٹی) اور نئی آبادیوں جیسے DHA پشاور اور ریگی ماڈل ٹاؤن تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ان روٹس میں DR-03A سے لے کر جدید ترین DR-14 تک مختلف سروسز شامل ہیں۔

DR-14 روٹ

DR-14 روٹ بورڈ بازار سے شروع ہو کر ریگی ماڈل ٹاؤن اور نصیر باغ روڈ کے راستے DHA پشاور تک جاتا ہے۔اس روٹ پر اہم مقامات شامل ہیں:اسلامیہ کالجبورڈ بازارکینال بینک کالونینصیر ٹیچنگ ہسپتالپولیس کالونیعسکری 6 فیز 1 اور 2ریگی ماڈل ٹاؤنDHA پشاوریہ روٹ خاص طور پر اسلامیہ کالج اور جامعہ پشاور کے طلبہ، ملازمین اور ریگی و DHA کے رہائشیوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

. سب اربن روٹ

SER-13 روٹ پشاور کے مضافاتی قصبے پبی کو مرکزی نیٹ ورک سے جوڑتا ہے، جس سے بین الاضلاعی سفر بھی آسان ہو گیا ہے۔

آنے والے روٹس اور توسیعی منصوبے

راوں سال مئی 2026 میں ٹرانس پشاور کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے 46ویں اجلاس میں رنگ روڈ، دلہ زاک روڈ اور خیبر روڈ پر نئے فیڈر روٹس شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔

اس کے ساتھ ساتھ مسافروں کے انتظار کے وقت کو کم کرنے کے لیے مرکزی کاریڈور پر اضافی بسیں چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر بورڈ نے 52 نئی الیکٹرک اور 50 ہائبرڈ بسوں کی خریداری کی بھی منظوری دی، جس سے مجموعی فلیٹ 296 بسوں تک پہنچ جائے گا۔

ان بسوں کی پہلی کھیپ (25 بسیں) جولائی 2026 کے شروع  میں پاکستان پہنچنا شروع ہو چکی ہے۔ نئے فلیٹ کے ساتھ خواتین کے لیے الگ سے مخصوص “پنک بس سروس” بھی متعارف کرائی جائے گی۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹرانس پشاور کو حال ہی میں معیار کے انتظام کے شعبے میں ISO 9001:2015 سرٹیفیکیشن بھی حاصل ہوئی ہے، اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بورڈ نے مسافروں کے مفاد میں کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

ٹکٹنگ سسٹم: Zu Card اور Zu Mobile App

زو پشاور میں کرایوں کی ادائیگی مکمل طور پر خودکار (automated)  آنلائن  نظام کے ذریعے کی جاتی ہے، اور بسوں میں نقد رقم (کیش) قبول نہیں کی جاتی۔

 سفر کے لیے دو طریقے دستیاب ہیں:

•          Zu Card: یہ ایک ری چارج ایبل کارڈ ہے جو سٹیشنز پر موجود ٹکٹنگ بوتھس سے تقریباً 150 روپے میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں، اور اسے اپنی مرضی کی رقم سے ری چارج کیا جا سکتا ہے

•          Zu Mobile App: یہ ایپ Google Play Store اور Apple App Store سے مفت ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے استعمال کے لیے رجسٹریشن ضروری ہے۔ ایپ میں ڈیجیٹل ادائیگی کے علاوہ Journey Planner کی سہولت بھی موجود ہے جس سے مسافر اپنا روٹ پہلے سے پلان کر سکتے ہیںکرایہ فاصلے کی بنیاد پر وصول کیا جاتا ہے۔

ابتدائی طور پر کم از کم کرایہ 10 روپے اور زیادہ سے زیادہ 50 روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم جولائی 2025 میں کم از کم کرایہ نظرثانی کے بعد 30 روپے کر دیا گیا۔

سہولیات اور حفاظتی اقدامات

                   لیول بورڈنگ (بغیر سیڑھیوں کے براہ راست بس میں داخلہ) اور نابینا افراد کے لیے ٹیکٹائل پیونگ

          خواتین اور معذور افراد کے لیے مخصوص نشستیں اور سیکشنز

          سٹیشنز پر نگرانی کا نظام (مانیٹرڈ سٹیشنز) تاکہ مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے

          پیدل چلنے والوں کے لیے کاریڈور کراس کرنے کی خاطر سیڑھیاں، لفٹیں اور پل تعمیر کیے گئے ہیں

مسافروں کی تعداد اور کارکردگی

زو پشاور کو مسافروں کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی ہے۔ 2021 میں اس نے تقریباً 5 کروڑ 10 لاکھ مسافروں کو سفر کی سہولت دی، جو 2022 میں بڑھ کر 7 کروڑ 40 لاکھ ہو گئی۔ 2026

تک یومیہ مسافروں کی تعداد 3 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے تقریباً 30 فیصد خواتین مسافر ہیں، جو نظام کی حفاظتی خصوصیات پر مسافروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

اپنی بہترین کارکردگی کی بدولت زو پشاور کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے، جن میں سمارٹ ٹکٹنگ پروگرام اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایوارڈز شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کی حکومت کا اپنی عوام کیلئے ایک اور انقلابی منصوبہ “وائی فائی منصوبہ 2026” کے بارے میں جانئے۔

خلاصہ

پشاور BRT، یعنی زو پشاور، 2020 میں اپنے آغاز سے لے کر اب تک ایک مسلسل ترقی پذیر عوامی ٹرانسپورٹ نظام ثابت ہوا ہے۔ 16 روٹس، جدید ٹکٹنگ سسٹم، اور آنے والے مہینوں میں مزید فیڈر روٹس اور بسوں کے اضافے کے ساتھ یہ نظام پشاور کے شہریوں کی روزمرہ نقل و حمل کی ضروریات کو مزید بہتر انداز میں پورا کرنے کی طرف گامزن ہے۔

خواتین کے لیے آنے والی پنک بس سروس اور رنگ روڈ، دلہ زاک روڈ و خیبر روڈ کے نئے فیڈر روٹس مستقبل میں نظام کو مزید وسعت دیں گے۔

📤 شیئر کریں: 📱 واٹس ایپ 📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر
📊 KP آج — لائیو
Sunday، 12 July 2026
اسلامی تاریخ — 2026
🌤️ پشاور
--°C
لوڈ ہو رہا ہے
💵 USD/PKR
278
▲ تازہ
⛽ پیٹرول
248 Rs
فی لیٹر
🥇 سونا
236K
▲ تازہ

📱 واٹس ایپ الرٹ

KP کی تازہ خبریں اور جابز — سیدھے واٹس ایپ پر پائیں

📲 ابھی جوائن کریں