کے پی اپڈیٹس (نادرا پاک آئی ڈی موبائل ایپ): کچھ عرصہ پہلے تک برتھ سرٹیفکیٹ سے شناختی کارڈ تک، نکاح نامہ رجسٹر کروانا ہو یا کسی پیارے کی وفات کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوتا تھا تو صبھ سویرے نادرا کے دفتر پہنچ کے لائنوں میں دھکے کھائے بغیر یہ سب کام ممکن نہیں تھے۔ لمبی قطاریں، بار بار کے چکر اور کاغذی کارروائی، یہ سب اس عمل کا لازمی حصہ سمجھے جاتے تھے۔ جو دور دراز کے لوگوں کیلئے بطور خاص ایک درد سر سے کم نہیں ہوتا تھا
اب بالآخر اس روایتی طریقہ کار میں تبدیلی کا خاطر خوا امکان پیدا ہو چکا ہے۔ کیوںکہ اس مقصد کو پورا کرنے اور لوگوں کو سہولت دینے کیلئے نادرا نے ایک منفرد قدم اٹھایا ہے۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کی سہولت کے لیے ایک اور بڑا اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی مشہور “پاک آئی ڈی” موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے پبلک سول رجسٹریشن سروسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئی ڈیجیٹل سروس کے بعد اب شہریوں کو اپنی بنیادی دستاویزات کے حصول کے لیے نادرا دفاتر کے چکر کاٹنے اور لمبی لائنوں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اس جدید سہولت کا مقصد پشاور سمیت صوبہ بھر کے شہریوں کو ان کی دہلیز پر بغیر کسی پریشانی کے تصدیق شدہ اور تیز ترین ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنا ہے۔
پاک آئی ڈی ایپ پر کون سی سول سروسز دستیاب ہیں؟
نادرا کی جانب سے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کو اپ گریڈ کر کے اس میں متعدد اہم فیملی اور سول رجسٹریشن سروسز شامل کی گئی ہیں۔ شہری اب اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے درج ذیل اہم سرٹیفکیٹس اور رجسٹریشنز کے لیے آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں:
پیدائش کی رجسٹریشن (Birth Registration)
نئے پیدا ہونے والے بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ اور رجسٹریشن کا عمل اب مکمل طور پر آسان اور تیز رفتار بنا دیا گیا ہے۔ والدین گھر بیٹھے ہی اپنے بچے کا برتھ سرٹیفکیٹ بنوا سکتے ہیں۔
شادی کی رجسٹریشن (Marriage Registration)
نکاح نامہ اور شادی کی نادرا ریکارڈ میں فوری رجسٹریشن اب ایپ کے ذریعے چند منٹوں میں مکمل کی جا سکتی ہے، جس سے شادی شدہ جوڑوں کو دفتری چکروں سے نجات ملے گی۔
طلاق کی رجسٹریشن (Divorce Registration)
قانونی دستاویزات کے مطابق طلاق کے ریکارڈ کا اندراج بھی اب اسی پلیٹ فارم پر دستیاب ہے، جس سے یہ حساس اور اہم قانونی عمل بھی آسان ہو گیا ہے۔
وفات کی رجسٹریشن (Death Registration)
فیملی ممبر کی وفات کی صورت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا آن لائن حصول ممکن بنایا گیا ہے، تاکہ غمزدہ خاندانوں کو اس مشکل وقت میں دفتری پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بائیو میٹرک تصدیق اور جدید سیکیورٹی فیچرز
نادرا کے حکام کے مطابق پاک آئی ڈی ایپ میں سیکیورٹی اور تصدیق کے عمل کو انتہائی محفوظ بنایا گیا ہے۔ ایپ کے اندر موجود جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے شہری تین اہم طریقوں سے اپنی شناخت کی تصدیق کروا سکتے ہیں:
فنگر پرنٹ اسکیننگ – شہری اپنے موبائل کے کیمرے کے ذریعے ہی بائیو میٹرک یعنی انگلیوں کے نشانات کی تصدیق کر سکتے ہیں، جس سے نادرا کے دفتر جا کے علیحدہ بائیو میٹرک ڈیوائس کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
فیشل ریکگنیشن – سمرٹ فون ٹیکنالوجی کو بدولت اب چہرے کی شناخت اور لائیو فوٹو کیپچرنگ کے ذریعے صارف کی اصل شناخت کو یقینی بنایا جاتا ہے، جس سے جعلی درخواستوں اور شناختی فراڈ کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔
کیو آرکوڈ اور ڈیجیٹل دستاویزات – تمام سروسز کی درخواستیں جمع ہونے کے بعد آن لائن ٹریکنگ اور تصدیق کی سہولت بھی دی گئی ہے، جس سے صارف اپنی درخواست کی صورتحال کسی بھی وقت چیک کر سکتا ہے۔
شہریوں کے وقت اور پیسے کی بچت
نادرا کے اس انقلابی ڈیجیٹل اقدام کو عوامی حلقوں کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایپ کے فعال ہونے سے نہ صرف نادرا دفاتر پر رش میں کمی آئے گی، بلکہ سمندر پار پاکستانیوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے وقت اور سفری اخراجات میں بھی نمایاں بچت ہوگی۔
خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ سہولت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اب انہیں اپنے خاندان کے کسی فرد کی پیدائش، شادی یا وفات کے سرٹیفکیٹ کے لیے پاکستان واپس آنے یا کسی نمائندے پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اب کوئی بھی شہری کسی بھی وقت اپنے موبائل سے سائن اپ کر کے ان سروسز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
پاک آئی ڈی ایپ کیسے استعمال کریں؟
- گوگل پلے اسٹور یا ایپل ایپ اسٹور سے “Pak ID” ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
- شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے اکاؤنٹ رجسٹر یا لاگ ان کریں۔
- مطلوبہ سول رجسٹریشن سروس (برتھ، میرج، ڈیورس یا ڈیتھ) منتخب کریں۔
- فنگر پرنٹ یا فیشل ریکگنیشن کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق مکمل کریں۔
- ضروری معلومات اور دستاویزات اپ لوڈ کریں اور درخواست جمع کروائیں۔
- QR کوڈ کے ذریعے درخواست کی صورتحال آن لائن ٹریک کریں۔
خلاصہ
نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے سول رجسٹریشن سروسز کا آغاز پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ برتھ، میرج، ڈیورس اور ڈیتھ سرٹیفکیٹس جیسی بنیادی مگر ضروری خدمات کا اب گھر بیٹھے، محفوظ بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ حصول ممکن ہو گیا ہے۔
جانئے خیبر پختونخوا میں صحت کیلئے کئے گئے انقلابی اقدامات کا جائزہ
32 ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ
یہ اقدام نہ صرف عام شہریوں بلکہ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بھی وقت اور وسائل کی بڑی بچت کا باعث بنے گا، اور مستقبل میں دیگر سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔