لوڈ ہو رہا ہے... | 🌤 پشاور: 38°C
صحت

خیبرپختونخوا کے 32 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، وزیراعلیٰ کا رواں سال تکمیل کا حکم

🔊 یہ خبر سنیں — ElevenLabs آڈیو
خیبرپختونخوا کے 32 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی…

پشاور (خیبرپختونخوا ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی اپگریڈیشن): دنیا کے ہر مہذب ملک میں اپنے شہریوں کی بنیادی سہولیات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے جن میں صحت کو خاص فوقیت حاصل ہے۔ پاکستان میں یہ صورتحال تھوڑی مختلف ہو جاتی ہے اور یہاں اکثر بنیادی سہولیات بشمول صحت سے کافی حد تک محروم ہی رہے۔ جن کی بہٹ سی وجویات ہیں۔

اگر بات خیبر پختونخوا کی ہو تو یہاں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں رہی لیکن سابق وزیر اعظم جناب عمران خان کی حکومت بننے کے بعد صورتحال میں بتدریج بہتری نظر آئی۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں بہت سے انقلابی اقدامات کئے صھت کے حوالے سے جس پہ ایک الگ تفصیلی آرٹیکل آپ لوگوں سے شئیر کیا جائے گا۔ 

خیبرپختونخوا ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی اپگریڈیشن

 خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں جہاں آج بھی سہولیات کا فقدان ہے اور وہاں کے لوگوں کو بعض اوقات بنیادی سہولیات کا نا ہونے کی وجہ سے جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے تھے۔ اکثر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں رہنے والے مریضوں کو معمولی علاج کے لیے بھی پشاور یا بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس سے وقت، پیسہ اور بعض اوقات جان تک کا نقصان ہوتا تھا۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے اب صوبائی حکومت نے جامع اور سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں جس کے تحت صوبے بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے کو آگے بڑہاتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی بحالی اور اپ گریڈیشن پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے عوام کو صحت کی جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری منصوبوں پر مکمل بریفینگ دی گئی۔

وزیراعلیٰ کا رواں مالی سال میں کام مکمل کرنے کا الٹی میٹم

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے متعلقہ حکام کو واضح اور سخت ہدایات جاری کیں کہ عوامی مفاد کے اس میگا پراجیکٹ کو بغیر کسی تاخیر کے رواں مالی سال کے اختتام تک ہر صورت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اس منصوبے میں کسی بھی قسم کی غفلت، سستی یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

یہ سخت رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو محض اعلانات تک محدود نہیں رکھنا چاہتی، بلکہ زمینی سطح پر ٹھوس نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔

منصوبے کے اہم خدوخال اور اعداد و شمار

اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق اس منصوبے کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہی:

ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی اپگریڈیشن ۔  صوبے کے تمام اضلاع میں موجود 32 بڑے ڈی ایچ کیو ہسپتال اس ریپئرنگ اور اپ گریڈیشن پلان میں شامل کیے گئے ہیں جس کا مطلب کہ عملی طور پر پورے صوبے کے مریضوں کو اس منصوبے سے براہِ راست فائدہ پہنچے گا، اور علاقائی سطح پر معیاری علاج تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔

اپگرڈیشن کیلئے خطیر بجٹ مختص- ہسپتالوں کی حالت زار بہتر کرنے کیلئے پہلے ہی 33 ارب روپے مالیت کے فنڈ سے چار مختلف پی سی ون منظور کئے جا چکے ہیں جو اس منصوبے میں حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ 

جدید طبی آلات کی فراہمی – ہسپتالوں کو جدید طبی مشینری سے لیس کرنے کے لیے 2.55 ارب روپے مالیت کے طبی آلات خرید کر متعلقہ ہسپتالوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔جس سے یہ توقع کی جا رہی ہے کی عوام کو اب جدید سہولیات میسر ہوں گی

انفراسٹرکچر ڈیزائن کی حتمی منظوری – تمام ہسپتالوں کے نئے اور جدید ڈیزائن پہلے ہی منظور ہو چکے ہیں، جس کے بعد تعمیراتی کام کا آغاز جلد کر دیا جائے گا۔ ڈیزائن کی منظوری کسی بھی تعمیراتی منصوبے میں ایک اہم سنگِ میل تصور کی جاتی ہے، کیونکہ اس کے بعد عملی کام میں تاخیر کا امکان کم ہو جاتا ہے۔دو ٹوک ہدایات

!وزیر اعلی کا 3 ماہ بعد جائزہ رپورٹ کو حکم

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ جن اضلاع میں ہسپتالوں کا کام آخری مراحل میں ہے یا جہاں تھوڑا کام باقی ہے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کر کے عوام کے لیے فعال کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ جلد از جلد عوام تک پہنچ سکے۔

انہوں نے محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کو واضح ہدایت دی کہ کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے تمام مشکلات اور سرخ فیتے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے سختی سے خبردار کرتے ہوئے کہا:

“غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں ہوگی۔ ٹھیک تین ماہ بعد اس منصوبے کا دوبارہ تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، اور اس وقت تک مجھے گراؤنڈ پر واضح اور نمایاں پیش رفت نظر آنی چاہیے۔

صوبے میں پہلے ‘ہیلتھ سٹی’ کا قیام

اجلاس کی سب سے خاص بات  ڈی ایچ کیو ہسپتالوں اپ گریڈیشن کے علاوہ صوبے میں عالمی معیار کے “ہیلتھ سٹی” کے قیام پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ہیلتھ سٹی کا قیام موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ صوبے کے عوام کو پیچیدہ اور نازک بیماریوں کے علاج کے لیے دیگر صوبوں یا ملک سے باہر کا رخ نہ کرنا پڑے۔

یہ منصوبہ مکمل ہونے کی صورت میں خیبرپختونخوا صحت کے شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کر سکتا ہے، کیونکہ فی الوقت صوبے کے مریضوں کی بڑی تعداد پیچیدہ علاج کے لیے لاہور، کراچی یا بیرونِ ملک کا رخ کرتی ہے۔

کچ ہسپتال منصوبے کی جلد تکمیل کی ہدایت

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے کچ ہسپتال منصوبے کو بھی قلیل مدت میں مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے تمام درکار وسائل فراہم کرے گی، تاکہ اس علاقے کے عوام کو بھی جلد از جلد معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

عوام کے لیے اس منصوبے کی اہمیت کیوں ہے؟

  • دور دراز اضلاع کے مریضوں کو بڑے شہروں کا سفر کرنے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
  • ہنگامی حالات میں بروقت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
  • جدید طبی آلات کی موجودگی سے تشخیص اور علاج کا معیار بہتر ہوگا۔
  • غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کے لیے علاج کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
  • صحت کے شعبے میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا۔

خیبر پختونخوا حکومت کی عوام کی سۃولت کیلئے دستک ایپ کا اجراء – تفصیلات جانئے

دستک ایپ خیبر پختونخوا

خلاصہ

خیبرپختونخوا کے 32 ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ صوبائی حکومت کی صحت کے شعبے میں اصلاحات کی سنجیدہ کوششوں کا آئینہ دار ہے۔

33 ارب روپے سے زائد کے فنڈز کا اجرا، جدید طبی آلات کی فراہمی اور وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا سخت اور واضح الٹی میٹم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہو جاتا ہے تو یہ خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے صحت کی سہولیات کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا

📤 شیئر کریں: 📱 واٹس ایپ 📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر
📊 KP آج — لائیو
Friday، 10 July 2026
اسلامی تاریخ — 2026
🌤️ پشاور
--°C
لوڈ ہو رہا ہے
💵 USD/PKR
278
▲ تازہ
⛽ پیٹرول
248 Rs
فی لیٹر
🥇 سونا
236K
▲ تازہ

📱 واٹس ایپ الرٹ

KP کی تازہ خبریں اور جابز — سیدھے واٹس ایپ پر پائیں

📲 ابھی جوائن کریں