پشتو فلم انڈسٹری عروج سے زوال تک: ایک وقت تھا جب خیبر پختونخوا، بلوچستان اور افغان سرحد کے پار پشتو فلموں کا ریلیز ہونا کسی بڑے تہوار سے کم نہیں ہوتا تھا۔
عید کے موقع پر پشاوراور خیبر پختونخوا کے بہت سے اضلاع میں سینما ہالز کے باہر لگی لمبی لائنیں، ٹکٹوں کے لیے مداحوں کا جنون اور ہاؤس فل کے بورڈز اس بات کے گواہ ہوتے تھے کہ پشتو سینما صرف تفریح نہیں، بلکہ پشتون ثقافت اور روایات کا ایک امین تھا۔

وقت بدلتا گیا نئے رجحانات معاشرے میں سرایت کر گئے۔ لیکن پشتو فلم انڈسٹری بدلتی دنیا سے پیچھے رہ گئی اور آج منظرنامہ بالکل برعکس ہے۔
پشاور کا تاریخی ‘پلس سینما’ ہو یا ‘شمع سینما’، کئی نامور سینما ہالز یا تو مسمار کر کے کمرشل پلازوں میں تبدیل ہو چکے ہیں یا ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ وہ انڈسٹری جو سالانہ درجنوں کامیاب فلمیں پروڈیوس کرتی تھی اور ہزاروں لوگوں کے روزگار کا زریعہ تھی، اب گنتی کی چند فلموں تک محدود ہو چکی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پشتو فلم انڈسٹری اس نہج پر کیسے پہنچی؟ کیا اس زوال کا ذمہ دار صرف جدید دور اور سوشل میڈیا ہے، یا اس کے پیچھے تلخ حقائق کچھ اور ہیں؟
آئیے، پشتو سینما کی تاریخ، اس کے عروج اور پھر زوال کی اصل وجوہات کا تفصیلی احاطہ کرتے ہیں۔
پشتو سینما کی تاریخ اور اس کا سنہری دور
پشتو سینما کی تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو یہ دہائیوں پر محیط ہے۔ اس کا آغاز 1970ء کی دہائی میں فلم “یوسف خان شیر بانو” سے ہوا، جو ایک کلاسک رومانوی لوک داستان پر مبنی تھی۔ اس فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور یہیں سے پشتو فلم انڈسٹری کی بنیاد پڑی۔
عروج کا دور اور یادگار ستارے
1980ء اور 1990ء کی دہائی پشتو سینما کا “سنہری دور” کہلاتا ہے۔ اسی دور میں انڈسٹری کو ایسے اداکار ملے جنہوں نے اپنی جاندار اداکاری سے عوام کے دلوں پر راج کیا:
- بدر منیر (Badar Munir): پشتو سینما کے وہ بے تاج بادشاہ جن کے نام پر فلمیں ہٹ ہوتی تھیں۔
- آصف خان: جن کی ایکشن اور سنجیدہ اداکاری کے مداح آج بھی موجود ہیں۔
- یاسمین خان اور ثریا خان: جنہوں نے ہیروئن کے روپ میں پشتو فلموں کو نئی پہچان دی۔
اس دور کی فلموں میں پشتون کلچر، غیرت، مہمان نوازی اور لوک داستانوں کو خوبصورتی سے دکھایا جاتا تھا۔
فلموں کی موسیقی میں رباب اور منگی (گھڑا) کا استعمال روح کو گرما دیتا تھا، یہی وجہ تھی کہ پڑوسی ملک افغانستان میں بھی ان فلموں کو بے حد پسند کیا جاتا تھا۔

پشتو فلم انڈسٹری کے زوال کی 6 بڑی وجوہات
پشتو فلم انڈسٹری کا زوال اچانک سے نہیں ہو، بلکہ یہ معاشی، سماجی، تکنیکی اور سکیورٹی حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ایک طویل بحران کا نتیجہ ہے۔ جس سے لاپرواہی اختیار کی گئی۔ ان وجوہات کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔ سینما ہالز کی بندش اور کمرشلائزیشن
کسی بھی فلم انڈسٹری کی بقا کا دارومدار اس کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک یعنی سینما ہالز پر ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور، مردان اور سوات میں:
- درجنوں پرانے سینما ہالز کو توڑ کر شاپنگ مالز اور رہائشی پلازے بنا دیے گئے۔
- جدید دور کے مطابق پشاور میں ڈیجیٹل ملٹی پلیکس (Multiplexes) اس تعداد میں نہیں بن سکے جو لوکل فلموں کو سپورٹ کر سکیں۔
- جب فلمیں دکھانے کے لیے اسکرینز ہی نہ رہیں، تو پروڈیوسرز کا سرمایہ ڈوب گیا اور انہوں نے فلمیں بنانا بند کر دیں۔
2۔ گنڈاسا کلچر اور غیر معیاری اسکرپٹ کا غلبہ
90ء کی دہائی کے آخری حصے میں پشتو فلموں کا معیار تیزی سے گرا۔
- معیاری اور ادبی کہانیوں کی جگہ “کلاشنکوف اور گنڈاسا کلچر” نے لے لی۔
- فلموں میں غیر ضروری تشدد، چیختی چلاتی اداکاری اور فحش رقص (Vulgarity) کو شامل کیا گیا تاکہ مخصوص طبقے کو راغب کیا جا سکے۔
- اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ معزز اور پڑھے لکھے خاندانوں یا فیمیلیز نے سینما ہالز کا رخ کرنا بالکل چھوڑ دیا، جس سے سینما کا خاندانی ماحول ختم ہو گیا۔
3۔ سکیورٹی کے حالات اور دہشت گردی کے اثرات
سال 2000ء سے 2015ء کے دوران خیبر پختونخوا کو بدترین بدامنی اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔
- امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے رات کے شوز بند ہو گئے۔
- سینما ہالز پر حملوں کے خطرات کی وجہ سے لوگوں نے وہاں جانا چھوڑ دیا۔
- فلموں کی آؤٹ ڈور شوٹنگز ناممکن ہو گئیں، جس سے انڈسٹری کی ترقی کا پہیہ بالکل جام ہو گیا۔
4۔ ڈیجیٹل انقلاب اور سوشل میڈیا کا اثر
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے تفریح کے روایتی طریقوں کو بدل کر رکھ دیا۔
- یوٹیوب، ٹک ٹاک اور فیس بک: اب ناظرین کو مفت اور فوری مواد موبائل اسکرین پر فراہم کر رہے ہیں۔
- او ٹی ٹی (OTT) پلیٹ فارمز: نیٹ فلکس اور ایمیزون پرائم جیسے انٹرنیشنل پلیٹ فارمز نے ناظرین کے معیار کو بہت اوپر پہنچا دیا ہے۔ اب لوکل فلم میکر پرانی ٹیکنالوجی اور غیر معیاری اسکرپٹ کے ساتھ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

5۔ سرمایہ کاری کی کمی اور تکنیکی پسماندگی
پشتو فلمیں آج بھی پرانے کیمروں، ناقص لائٹنگ اور کمزور ساؤنڈ سسٹم کے ساتھ بنائی جا رہی ہیں۔
بڑے سرمایہ کار (Producers) اس انڈسٹری میں پیسہ لگانے سے کتراتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بزنس ماڈل محفوظ نہیں ہے۔ تکنیکی لحاظ سے پشتو سینما، پنجابی یا اردو سینما کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گیا۔
کیا سوشل میڈیا واقعی قصوروار ہے؟
سوشل میڈیا کوعام طور پرپشتو سینیما کے زوال کا زمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا نے سینما کو تباہ کیا۔ لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سوشل میڈیا نے سینما کو تباہ نہیں کیا، بلکہ پشتو فلم انڈسٹری نے خود کو ڈیجیٹل دور کے مطابق اپگریڈ نہیں کیا۔ اور نا معیار پہ توجہ دی۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر کورین (K-Pop) یا ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری سوشل میڈیا کا استعمال کر کے پوری دنیا میں مقبول ہو سکتی ہیں، تو پشتو سینما کیوں نہیں؟ اصل مسئلہ یہ رہا کہ ہمارے پرانے فلم میکرز نے یوٹیوب، ڈیجیٹل رائٹس اور آن لائن اسٹریمنگ کے ماڈل کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
پشتو سینما کی بحالی کیسے ممکن ہے؟
پشتو زبان دنیا بھر میں کروڑوں افراد بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ موجود ہے، بس پروڈکٹ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انڈسٹری کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
- جدید اور معیاری اسکرپٹ: پشتو کی بھرپور تاریخ، صوفیانہ شاعری اور حقیقی معاشرتی مسائل پہ فلمز بنائی جائیں۔
- ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال: پشتو فلم کو صرف سینما تک محدود رکھنے کے بجائے اسکو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز (یو ٹیوب، فیسبک، ٹک ٹاک وغیرہ) اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز یا ایپس پہ بھی ریلیز کیا جائے اور ساتھ میں مقبول زبانوں اردو، انگریزی وغیرہ میں ڈبنگ یا ترجمہ کے ساتھ پیش کیا جائے۔
- نئے تیلنٹ کی شمولیت: اگر پشتو سنیما کو کامیاب کرنا ہے تو نئے ٹیلینٹ جن میں نوجوان رائیٹرز، ڈائریکٹرز اور اداکاروں کو موقع دینا ناگزیر ہے۔
- حکومتی سرپرستی: خیبر پختونخوا حکومت کو چائیے کہ وہ ایک باقاعدہ فلم اور شوبز پالیسی کا اجراء کرے اورفلم میکرز کو فنڈز مہیا کرے، سبسڈی دے اور ٹیکس میں چھوٹ دے تاکہ یہ انڈسٹری دوبارہ اپنے پاوؑں پہ کھڑی ہو سکے۔

نتیجہ
پشتو فلم انڈسٹری کا زوال ایک ادبی اور ثقافتی المیہ ضرور ہے، لیکن یہ کہانی کا اختتام نہیں ہے۔ آج بھی افغان پشتو موویز اور پاکستان کے لوکل انڈیپینڈنٹ فلم میکرز یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لاکھوں ویوز حاصل کر رہے ہیں، جو پشتو کانٹینٹ کے پوٹینشل کو ظاہر کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ “گلیمر اور گنڈاسا” کے پرانے فارمولے کو چھوڑ کر بین الاقوامی معیار کی فلم سازی پہ فوکس بڑھایا جائے۔ اگر پشتو سینما نے نئی سوچ اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنا لیا، تو وہ دن دور نہیں جب یہ انڈسٹری ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گی۔
آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ کے خیال میں پشتو فلموں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں۔