لوڈ ہو رہا ہے... | 🌤 پشاور: 38°C
اوور سیز پاکستانی

Overseas Pakistani Insurance Claim: OPF اور State Life سے کلیم، مالی امداد اور رجسٹریشن کا مکمل طریقہ

پاکستان سے ایک بڑی تعداد میں شہری بیرون ملک روزگار کے سلسلے میں قیام پزیر ہیں، جن میں سب سے زیادہ گلف ممالک میں اور پھر امریکہ اور یورپین ممالک میں آباد ہیں۔ ان تمام  پاکستانی شہریوں اور ان کے خاندانوں کے لیے Overseas Pakistani Insurance Claim کا طریقہ جاننا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

 کسی بھی شہری کی بیرون ملک دوران ملازمت وفات یا مستقل معذوری کی صورت میں شہری یا اس کے قانونی ورثاء کو مختلف سرکاری سہولیات کے تحت مالی امداد حاصل ہو سکتی ہے۔ ان سہولیات میں State Life کی Emigrant Insurance، Overseas Pakistanis Foundation (OPF) کی مالی امداد، Funeral Grant اور دیگر فلاحی خدمات شامل ہیں۔

Overseas Pakistani Insurance Claim

 بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں جانے والے تمام پاکستانیوں کے لیے پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس سے باقاعدہ پروٹیکشن کا حصول، ویلفیئر فنڈ اور متعلقہ فیسیں جمع کروانا اور تمام ضروری دستاویزات محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ او پی ایف (OPF) کے مطابق پروٹیکٹوریٹ کے ذریعے ویلفیئر فنڈ جمع کروانے والے تمام افراد ازخود اس کے لازمی رکن بن جاتے ہیں۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس اور او پی ایف فنانشل ایڈ دو الگ الگ ادارے ہیں۔ اس لئےکسی بھی  کیس میں اہلیت کیلئے دونوں کے ضوابط اور شرائط مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے متاثرہ خاندان کو صرف ایک ادارے کے کلیم پر اکتفا کرنے کے بجائے دونوں جگہ الگ الگ رجوع کرنا چاہیے۔

بیرون ملک دورانِ ملازمت وفات یا کسی حادثے کی وجہ سے مستقل معذوری کی صورت میں مالی امداد کے حصول یا انشورنس کلیم کے لیے متاثرہ کارکن یا اس کے ورثاء کو مختلف مراحل طے کرنا ہوتے ہیں۔

اس میں پروٹیکٹر ریکارڈ کی تصدیق، State Life انشورنس کلیم، OPF مالی امداد، ضروری متعلقہ دستاویزات کی تیاری اور مقررہ مدت کے اندر درخواست جمع کرانا شامل ہے۔

اس تمام عمل کی مکمل گائیڈ لائن اس آرٹیکل میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، امید ہے کہ یہ آپ کیلئے مفید ثابت ہوگا۔

Protector of Emigrants کا بنیادی مقصد بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانی کارکن کو قانونی اور فلاحی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ Bureau of Emigration & Overseas Employment (BEOE) کے ذریعے کارکن کی ملازمت اور متعلقہ دستاویزات رجسٹر کی جاتی ہیں، Welfare Fund اور دیگر خدمات کی مقررہ فیس جمع کروانی ہوتی ہیں اور State Life کی Emigrant Insurance بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔

Protector of Emigrants

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے قواعد کے مطابق بیرونِ ملک ملازمت کی رجسٹریشن کے لیے پاسپورٹ، ویزا، قومی شناختی کارڈ (CNIC)، ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ یا ایگریمنٹ، رجسٹریشن فیس، ویلفیئر فنڈ، امیگریشن پروموشن فیس اور اسٹیٹ لائف انشورنس سرٹیفکیٹ سمیت دیگر ضروری دستاویزات لازمی قرار دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مخصوص ممالک کے لیے میڈیکل فٹنس رپورٹ اور بعض کیٹیگریز کے لیے متعلقہ محکموں سے این او سی (NOC) بھی لازمی ہو سکتی ہے۔

شہریوں کی سہولت کے لیے  بیورو نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ای-پروٹیکٹر (e-Protector) کی آن لائن درخواست کا لنک، رجسٹریشن ویریفکیشن پورٹل، فیسوں کی مکمل تفصیل اور متعلقہ پروٹیکٹوریٹ دفاتر کے پتے اور رابطے کیلئے دیگر تفصیلات بھی فراہم کی ہوئی  ہیں۔

Protection حاصل کرنے کے لیے بنیادی دستاویزات

عام طور پر درج ذیل دستاویزات تیار رکھنی چاہییں:

  • Valid Passport
  • Valid Work Visa
  • CNIC
  • Employment Contract یا Employment Agreement
  • State Life Insurance Certificate
  • Welfare Fund کی رسید
  • Registration Fee کی رسید
  • Emigration Promotion Fee کی رسید
  • OEP کے ذریعے جانے کی صورت میں متعلقہ Service Charges
  • مخصوص ممالک کے لیے Medical Fitness Report
  • جہاں ضروری ہو Government Employee، Ex-Serviceman یا Nurse کے لیے NOC
  • مخصوص ممالک کے لیے Police Character Certificate

BEOE نے Protectorate of Emigrants دفاتر کو غیرضروری دستاویزات طلب نہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہے۔

OPF Membership کیسے حاصل ہوتی ہے؟

OPF Membership دو بنیادی طریقوں سے حاصل ہوتی ہے: Compulsory Membership اور Voluntary Membership۔او پی ایف (OPF) کے مطابق 23 مارچ 1979 کے بعد پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس، بیورو آف امیگریشن (BEOE) یا اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC) کے ذریعے قانونی و تصدیق شدہ ورک ویزا (Valid Protected Work Visa) پر بیرونِ ملک جانے والے تمام پاکستانی اپنا ویلفیئر فنڈ جمع کرواتے ہی خودکار طریقے سے ادارے کے لازمی رکن (Compulsory Member) بن جاتے ہیں۔

OPF Membership

اس کیٹیگری کے افراد کو اپنی او پی ایف کی مستقل ممبرشپ کے لیے علیحدہ سے 10,000 روپے کی فیس ادا نہیں کرنی پڑتی۔

اگر کوئی شخص Compulsory Membership کے اہل نہیں ہوتا تو وہ اپنے لئے Voluntary Membership حاصل کر سکتا ہے۔ OPF کی موجودہ معلومات کے مطابق Voluntary Membership کی ایک مرتبہ کی فیس 10,000 روپے ہے۔

OPF Membership کے لیے آن لائن رجسٹریشن

او پی ایف (OPF) نے شہریوں کی سہولت کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا باقاعدہ نظام  فراہم کر رکھا ہے۔ ادارے کے موجودہ ممبرشپ پورٹل کے مطابق، اوورسیز پاکستانی اپنے ویزا (Visa) یا ماسٹر کارڈ (MasterCard) کے ذریعے انٹرنیٹ پیمنٹ گیٹ وے کا استعمال کرتے ہوئے گھر بیٹھے باآسانی آن لائن ممبرشپ فیس ادا کر سکتے ہیں۔

Voluntary Membership کے لیے عام طور پر:

  • Valid Passport کی نقل
  • CNIC/NICOP/POC کی نقل
  • Valid Visa یا Iqama کی نقل
  • Protectorate of Emigrants کی مہر والا صفحہ، اگر موجود ہو
  • حالیہ تصاویر
  • مکمل Membership Form
  • مقررہ Membership Fee

درکار ہوتی ہے۔

او پی ایف (OPF) کے موجودہ قواعد کے مطابق ممبرشپ کارڈ کی میعاد عام طور پہ5 سال کیلئے ہوتی ہے۔ اگر ملازمت کے سلسلے میں ملک یا مستقل رہائش تبدیل ہونے کی صورت میں کارڈ ہولڈر کے لیے نیا ممبرشپ کارڈ بنوانا ضروری ہو جاتا ہے۔

اگر کارڈ گم ہو جائے یا خراب ہو جائے تو ڈپلیکیٹ کارڈ (Duplicate Card) کے حصول کے لیے موجودہ سروس چارجز 1,000 روپے ہیں، جبکہ فوری ضرورت کے تحت ارجنٹ پروسیسنگ (Urgent Processing) فیس 2,000 روپے مقرر ہے۔

OPF Membership Card کہاں سے حاصل کریں؟

او پی ایف (OPF) نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن رجسٹریشن کی سہولت اور ممبرشپ فارم دونوں فراہم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے کے ڈاؤن لوڈز (Downloads) سیکشن سے ممبرشپ فارم سمیت دیگر تمام متعلقہ سرکاری فارمز اور دستاویزات بھی باآسانی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

اگر کسی مرحلے پر براہِ راست کوئی رہنمائی کی ضرورت ہو تو او پی ایف کے ہیڈ آفس یا اپنے قریبی ریجنل دفاتر سے بھی رابطہ کر کے مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانی شہری Emigrant Insurance اسکیم سٹیٹ لائف انشورینس کارپوریشن  کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کےموجودہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ایمیگرنٹ انشورنس (Emigrant Insurance) کے تحت بنیادی کوریج کی رقم 10 لاکھ روپے مقرر ہے۔

اس پالیسی کے تحت انشورنس کوریج کی مدت کو 2 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دیا گیا تھا، جبکہ اس کا پریمیم 2,000 روپے سے بڑھا کر 2,500 روپے کیا گیا تھا۔۔

State Life Insurance Claim

اسٹیٹ لائف کے موجودہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق کمپیوٹرائزڈ بیورو آف ایمیگرنٹس انشورنس سرٹیفکیٹس (Computerized Bureau of Emigrants Insurance Certificates) کے اجرا اور پرنٹنگ کا سلسلہ جاری ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ایمیگرنٹ انشورنس سرٹیفکیٹ کا باقاعدہ نظام مکمل طور پر فعال اور نافذ العمل ہے۔

اس لیے بیرونِ ملک جانے والے ہرشہری کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنا اسٹیٹ لائف انشورنس سرٹیفکیٹ، رجسٹریشن نمبر اور پروٹیکٹر کی تصدیق پر مبنی تمام ریکارڈ اپنے پاس مستقل اور محفوظ رکھے۔

State Life Insurance Claim کی صورت میں سب سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ مرحوم یا متاثرہ کارکن کا Emigrant Insurance Certificate موجود ہے یا نہیں اور اس کا Registration Number کیا ہے۔

لواحقین کو فوری طور پر:

  1. مرحوم کا Passport حاصل کرنا چاہیے۔
  2. Protector کی مہر یا رجسٹریشن کا ثبوت تلاش کرنا چاہیے۔
  3. State Life Emigrant Insurance Certificate تلاش کرنا چاہیے۔
  4. Death Certificate حاصل کرنا چاہیے۔
  5. اگر وفات حادثے کے نتیجے میں ہوئی ہے تو Police Report، FIR یا دیگر متعلقہ سرکاری ریکارڈ محفوظ کرنا چاہیے۔
  6. پاکستانی سفارتخانے یا قونصل خانے سے رابطہ کرنا چاہیے۔
  7. قانونی ورثاء کی دستاویزات مکمل ہونی چاہییں۔ اگر نا ہوں تو کروا لینی چاہییں۔
  8. State Life کے متعلقہ دفتر میں Death Claim کی اطلاع اور مطلوبہ دستاویزات جمع کرانی چاہییں۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے مطابق ایمیگرنٹ انشورنس سے متعلق زیرِ التوا تمام کلیمز (Pending Claims) کا ڈیٹا اور اس سے متعلقہ معلومات اس کے سرکاری نظام میں باقاعدہ موجود ہیں، جبکہ انشورنس سرٹیفکیٹس کے اجرا اور تصدیقی عمل کی ذمہ داری اسٹیٹ لائف کے پاس ہے۔

مستقل معذوری کے کیس میں عام طور پر:

  • Passport
  • Protector کا ریکارڈ
  • State Life Insurance Certificate
  • حادثے یا بیماری سے متعلق Medical Reports
  • بیرون ملک Hospital کی رپورٹس
  • معذوری کی نوعیت اور شدت ظاہر کرنے والی Medical Assessment
  • متعلقہ سرکاری یا مجاز Medical Board کی رپورٹ

ضروری ہو سکتی ہے۔

چونکہ Disability Claim میں معذوری کی نوعیت اور پالیسی کی شرائط اہم ہوتی ہیں، اس لیے مکمل دستاویزات کی حتمی فہرست متعلقہ State Life کے دفتر سے حاصل کرکے پھر کلیم کے لئے اپلائی کرنا بہتر ہے۔

او پی ایف فنانشل ایڈ (OPF Financial Aid) ایک بالکل علیحدہ، یکمشت (Lump-sum) اور ناقابلِ واپسی (Non-refundable) مالی امداد ہے، جو بیرونِ ملک مقیم یا واپس آنے والے مستحق پاکستانیوں یا ان کے ورثا کو ہنگامی حالات میں مالی معاونت کے طور پر فراہم کی جاتی ہے۔

OPF Financial Aid

OPF کی تازہ ترین سرکاری معلومات کے مطابق:

  • وفات کی صورت میں 4 لاکھ روپے
  • مستقل معذوری کی صورت میں 3 لاکھ روپے

 یہ امداد اہل OPF ممبران اور مقررہ شرائط پہ پورااترنے والے خاندانوں کے لیے ہے۔ نیز یہ State Life Insurance کی رقم سے الگ سہولت ہے۔

 OPF کے موجودہ سرکاری قواعد کے مطابق Financial Aid کی درخواست واقعے کے ایک سال کے اندر جمع کرانا لازمی ہے۔ 

مثلا اگر وفات یا مستقل معذوری بیرون ملک قیام کے دوران ہوئی ہو تو ایک سال کی مدت حادثے کی تاریخ سے شمار ہوگی۔ اسی طرح اگر واقعہ پاکستان واپسی کے بعد پیش آئے تو ایک سال کی مدت پاکستان واپسی کی تاریخ سے شمار ہوتی ہے۔

ایک سال گزرنے کے بعد موصول ہونے والے Time-Barred Cases OPF  قابل قبول نہیں ہوتے۔

OPF کے مطابق مرحوم یا مستقل طور پر معذور ہونے والا Overseas Pakistani باقاعدہ OPF Member ہونا چاہیے۔

OPF Membership ثابت کرنے کے لیے درج ذیل میں سے قابل قبول ثبوت استعمال ہو سکتا ہے:

  • OPF Membership Card
  • پاسپورٹ پر Protector of Emigrants کی مہر
  • سٹیٹ لائف انشورنس سرٹیفیکیٹ جس پر پروٹیکٹر کی تصدیق، رجسٹریشن نمبر، تاریخ اور مہر موجود ہو۔

او پی ایف (OPF) کے قوائد کے مطابق، اگر کسی شخص نے پروٹیکٹر سے اپنا قانونی پروٹیکشن حاصل کر نے کے بعد باقاعدہ ویلفیئر فنڈ جمع کروا دیا ہو مگر بیرونِ ملک روانگی سے قبل  پاکستان میں ہی اس کا کسی بھی وجہ سے انتقال ہو جائے، تو اس کے پسماندگان بھی مخصوص شرائط و ضوابط کے تحت فنانشل ایڈ (Financial Aid) کی سہولت حاصل کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں۔

OPF Financial Aid کے لیے کون سی دستاویزات درکار ہیں؟

وفات کے کیس میں OPF کی موجودہ فہرست کے مطابق درکار بنیادی دستاویزات میں شامل ہیں:

  • Prescribed Application Form
  • مرحوم کے CNIC کی Attested Copy
  • تمام Passports کی Attested Copies
  • OPF Membership کا ثبوت
  • درخواست گزار کے CNIC کی Attested Copy
  • مرحوم سے رشتے کا ثبوت
  • Host Country کا Death Certificate
  • Dead Body Transportation کا Air Bill
  • Account Maintenance Certificate
  • Direct Credit Application

او پی ایف (OPF) دائر کردہ کیس کی نوعیت اور ضرورت کے مطابق اضافی دستاویزات بھی طلب کر سکتا ہے، اس لیے درخواست باقاعدہ جمع کروانے سے قبل اپنے قریبی او پی ایف دفتر سے درکار دستاویزات کی تازہ اور مکمل فہرست لازمی حاصل کرلیں۔

او پی ایف (OPF) کے موجودہ طریقہ کار کے مطابق مالی امداد (Financial Aid) کے حصول کے لیے ادارے کا باقاعدہ مقرر کردہ فارم (Prescribed Performa) استعمال کیا جاتا ہے۔

مرحلہ 1: OPF سے رابطہ

مرحوم یا معذور کارکن کے اہل خاندان کو OPF Head Office یا متعلقہ Regional Office سے رابطہ کرنا چاہیے۔

مرحلہ 2: Application Form حاصل کریں

او پی ایف کی ویب سائٹ کے ڈاؤن لوڈز (Downloads) سیکشن میں متعدد سرکاری فارمز دستیاب ہیں، تاہم فنانشل ایڈ کی موجودہ سروس ہدایات کے مطابق درخواست گزار کو متعلقہ او پی ایف دفتر سے باقاعدہ مقررہ فارم (Prescribed Form) حاصل کر کے اسے مکمل کرنا ہوتا ہے۔

تمام مطلوبہ دستاویزات کی Attested Copies لگائی جائیں اور OPF کی مقررہ شرائط کے مطابق فارم جمع کروایا جائے۔

او پی ایف (OPF) جمع ہونے والی تمام دستاویزات کی باقاعدہ طور پہ جانچ پڑتال کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق ان کی تصدیق (Verification) بھی کرواتا ہے۔ اس تصدیقی عمل کے بعد کیس کو طے شدہ سرکاری طریقہ کار کے مطابق آگے پروسیس کیا جاتا ہے۔

منظور شدہ کیس میں شہری کومقررہ طریقہ کار کے مطابق  یکمشت مالی امداد  کا اجراء کیا جاتا ہے۔ OPF کے مطابق مالی امداد first-come, first-served بنیاد پر دی جاتی ہے۔

او پی ایف فنانشل ایڈ کے علاوہ اہل اور مستحق خاندانوں کے لیے تدفین کیلئے بھی امداد (Funeral Grant) کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ ادارے کی موجودہ معلومات کے مطابق اس امداد کے تحت میت کی تدفین اور دیگر فوری اخراجات کے لیے 25,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

یہ امدادی سہولت OPF ممبر کے انتقال کی صورت میں مستحق خاندان کے لیے ہے اور درخواست وفات کے ایک ماہ کے اندر جمع کروانا ضروری ہے۔ اس کے لیے میت کی پاکستان منتقلی سے متعلق مقررہ شرائط بھی پوری کرنا ہوتی ہیں۔

OPF کی ویب سائٹ کے ڈاون لوڈ سیکشن میں تدفین کیلئے امداد درخواست کا فارم  بھی موجود ہے۔

اس لیے وفات کی صورت میں خاندان کو Financial Aid کے ایک سال کے وقت کے ساتھ Funeral Grant کی صرف ایک ماہ کی مدت بھی خاص طور پر یاد رکھنی چاہیے۔

بیرونِ ملک کسی بھی پاکستانی کارکن کے انتقال کی صورت میں اسکی میت کی وطن واپسی کا عمل ایک نہایت حساس اور اہم معاملہ ہوتا ہے، جس کے لیے متعلقہ پاکستانی سفارت خانے یا قونصل خانے، میزبان ملک کے مجاز حکام، آجر (Employer/کفیل) اور متوفی کے خاندان کے مابین باہمی اور بروقت رابطہ ناگزیر ہے۔

او پی ایف (OPF) اپنی ویلفیئر سروسز کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں اور ان کے ورثا کو قانونی و انتظامی سطح پر بھی بھرپور مدد فراہم کرتا ہے۔ ادارے کی مجوزہ پالیسی کے مطابق، قانونی طور پر بیرونِ ملک ملازمت کرنے والے مرحوم یا کسی وجہ سے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں کے واجب الادا بقایا جات (End-of-service Benefits)، غیر ادا شدہ تنخواہیں، گریجویٹی، ڈیتھ کمپنسیشن، دیت (Blood Money) اور انشورنس کلیمز کی وصولی میں مکمل تعاون اور پیروی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

اس لیے اگر کسی کارکن کی تنخواہ، gratuity، compensation یا دیگر واجبات کمپنی یا آجر کے ذمے رہ گئے ہوں تو خاندان کو صرف Insurance Claim تک محدودرہنے کے بجائے اس سلسلے میں بھی معاونت طلب کرنی چائیے۔

اگر مرحوم کے نام پر Insurance، Salary، Gratuity، Compensation یا دیگر مالی واجبات موجود ہوں تو قانونی ورثاء کی شناخت کے لیے متعلقہ درکار قانونی دستاویزات کی ضرورت ہو سکتی ہیں۔

کچھ معاملات میں Succession Certificate یا دیگر قانونی دستاویزات کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ جو کیس کی نوعیت، رقم اور متعلقہ ادارے کے قانونی تقاضوں پر منحصر ہوتی ہے۔

اس لیے خاندان کو بغیر کسی تصدیق کے کسی بھی مخصوص دستاویز کو ہر کیس کے کلیم کے لیے لازمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ State Life، OPF اور متعلقہ پاکستانی Mission سے کیس کے مطابق تمام مطلوبہ دستاویزات کی تصدیق کرنی چاہیے۔

او پی ایف اور سٹیٹ لائف دونوں بالکل الگ اور آزاد پروگرام کے حامل ہیں، اسٹیٹ لائف ایمیگرنٹ انشورنس (State Life Emigrant Insurance) قانونی انشورنس کوریج کے تحت ملنے والا باقاعدہ کلیم ہے، جبکہ او پی ایف فنانشل ایڈ (OPF Financial Aid) اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کی ویلفیئر اسکیم کے تحت فراہم کی جانے والی مالی امداد میں شامل ہے۔

او پی ایف بزات خود اپنی ممبرشپ کی تصدیق کے لیے اسٹیٹ لائف انشورنس سرٹیفکیٹ کو باقاعدہ ایک مستند اور قابلِ قبول دستاویز تسلیم کرتا ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پروٹیکٹر، ویلفیئر فنڈ، او پی ایف ممبرشپ اور اسٹیٹ لائف انشورنس ایک دوسرے سے جڑے ہوئے سرکاری نظام کا ایک حصہ ہیں، مگر ہر مالی فائدے کی اہلیت، دائرہ کار اور کلیم کا طریقہ کار بالکل جدا ہے۔

OPF Membership صرف مالی امداد تک محدود نہیں۔

او پی ایف کی موجودہ معلومات کے مطابق ارکان کو ممکنہ مختلف سہولیات میں:

  • بچوں کے لیے تعلیمی وظائف
  • OPF سکولز اور کالجز میں فیس رعایت
  • Housing Schemes
  • شکایات کے ازالے کی سہولت
  • فلاحی سروسز
  • بیرون ملک یا پاکستان میں Emergency Assistance
  • واجبات اور Compensation کی وصولی میں مدد
  • مختلف ڈسکاونٹ پروگرامز

شامل ہیں۔

OPF کے موجودہ Membership پروگرام میں اہل Compulsory Members کے لیے بعض اضافی Benefits بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں Accidental Insurance اور خاندان کے لیے مختلف سہولیات شامل ہیں؛ ان اضافی فوائد کے لیے الگ Terms & Conditions لاگو ہوتی ہیں۔

او پی ایف (OPF) کی موجودہ ویب سائٹ پر ممبرشپ کے لیے آن لائن رجسٹریشن سسٹم (Online Registration System) بھی موجود ہے، جبکہ تمام متعلقہ فارمز بھی ڈاؤن لوڈز سیکشن میں باقاعدہ فراہم کیے گئے ہیں۔

اس لیے او پی ایف ممبرشپ کے حصول کے لیے کسی بھی غیر سرکاری ویب سائٹ یا ایجنٹ پر انحصار کرنے کے بجائے براہِ راست او پی ایف کے آفیشل آن لائن رجسٹریشن سسٹم سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔

اسی طرح فنانشل ایڈ (Financial Aid) اور تدفین گرانٹ (Funeral Grant) کی درخواستوں کے لیے بھی صرف سرکاری طور پر منظور شدہ او پی ایف فارمز ہی استعمال کرنا بہتر ہے۔

اہم:  سٹیٹ لائف نے کوئی بھی موبائل ایپ کسی بھی  کلیمز کیلئے لانچ نہیں کی ہوئی اسلئے صرف کسی بھی کلیم کیلئے سٹیٹ لائف کا مجوزہ طریقہ کار اور مطلوبہ دستاویزات کی پابندی لازمی ہے۔

کسی ناخوشگوار واقعے کے بعد خاندان کو یہ ترتیب اختیار کرنی چاہیے:

1۔ پاکستانی سفارتخانے یا قونصل خانے سے رابطہ کریں۔

2۔ Death Certificate یا Medical/Disability Report حاصل کریں۔

3۔ Passport اور Protector کا ریکارڈ محفوظ کریں۔

4۔ State Life Insurance Certificate تلاش کریں۔

5۔ OPF Membership کا ثبوت حاصل کریں۔

6۔ حادثاتی کیس میں Police Report/FIR اور دیگر متعلقہ ریکارڈ حاصل کریں۔

7۔ میت کی پاکستان منتقلی سے متعلق دستاویزات محفوظ کریں۔

8۔ سٹیٹ لائف کو Insurance Claim کے بارے میں اطلاع دیں۔

9۔ OPF Financial Aid کے لیے ایک سال کے اندر درخواست دیں۔

10۔ Funeral Grant کے لیے ایک ماہ کی مقررہ مدت کا خیال رکھیں۔

11۔ Salary، Gratuity، Compensation یا دیگر واجبات بھی الگ سے Claim کریں۔

12۔ ہر ادارے میں جمع کروائی گئی درخواست، رسید، Claim Number اور دستاویزات کی نقول محفوظ رکھیں۔

سب سے عام غلطی یہ ہے کہ خاندان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مرحوم کارکن کا Protector اور Insurance Record کہاں محفوظ ہے۔

دوسری بڑی غلطی OPF Financial Aid کی مدت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہونا ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق اس کے لیے بنیادی مدت تین سال کے بجائے صرف ایک سال ہے۔

تیسری غلطی فیونرل گرانٹ (Funeral Grant) اور فنانشل ایڈ کو ایک ہی سمجھنا ہے۔ فیونرل گرانٹ کی رقم 25 ہزار روپے ہے اور اس کے لیے درخواست جمع کروانے کی مقررہ مدت صرف ایک ماہ ہے۔

چوتھی غلطی اسٹیٹ لائف انشورنس اور او پی ایف فنانشل ایڈ کو بھی ایک ہی کلیم سمجھنا ہے، جبکہ یہ دونوں دو الگ اداروں کے مختلف مالیاتی پروگرامز ہیں۔

پانچویں غلطی اصل پاسپورٹ، انشورنس سرٹیفکیٹ یا دیگر اہم قانونی دستاویزات کسی غیر ضروری ایجنٹ یا مڈل مین (Middleman) کے حوالے کرنا ہے، جس سے فراڈ اور تاخیر کا خدشہ رہتا ہے۔

بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے شناختی دستاویزات کی آن لائن سہولیات بھی اہم ہیں۔ NADRA PakID App 2026 کے ذریعے CNIC، NICOP اور POC سے متعلق مختلف خدمات کے لیے آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے۔

چھٹی غلطی یہ ہے کہ متاثرہ خاندان صرف انشورنس کلیم پر توجہ مرکوز رکھتا ہے اور مرحوم کی واجب الادا تنخواہ، گریجویٹی، اینڈ آف سروس بینیفٹس (End-of-Service Benefits)، ڈیتھ کمپنسیشن یا دیگر قانونی مالی بقایا جات کا الگ سے باقاعدہ مطالبہ نہیں کرتا۔

بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانی شہریوں کو درج ذیل سرکاری ذرائع محفوظ رکھنے چاہییں:

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے پورٹل پر ای-پروٹیکٹر (e-Protector)، تارکینِ وطن کی رجسٹریشن (Emigrant Registration)، تصدیقی نظام (Verification)، فیسوں کی مکمل تفصیل (Fee Structure) اور تمام متعلقہ پروٹیکٹوریٹ دفاتر کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

Overseas Pakistanis Foundation (OPF): اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) کے آنلائن پورٹل پر ممبرشپ، فنانشل ایڈ، فیونرل گرانٹ، ڈاؤن لوڈز سیکشن اور دیگر تمام ویلفیئر سروسز کی مکمل معلومات دستیاب ہیں۔

اسٹیٹ لائف کے پورٹل پہ ایمیگرنٹ انشورنس سرٹیفکیٹ اور انشورنس کلیم سے متعلق تمام معلومات دستیاب ہیں اور اسکے متعلقہ دفاتر سے براہِ راست رابطہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیٹ لائف کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ایمیگرنٹ انشورنس سرٹیفکیٹس کے اجرا کا باقاعدہ نظام بدستور مکمل طور پر فعال اور نافذ العمل ہے۔۔

بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں جانے والے ہر پاکستانی شہری کے لیے لازمی ہے کہ وہ پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس کے ذریعے قانونی پروٹیکشن حاصل کرنے کے بعد اپنے پاسپورٹ، ورک ویزا، ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ، اسٹیٹ لائف انشورنس سرٹیفکیٹ اور ویلفیئر فنڈ کی تمام دستاویزات مکمل طور پر اپنے پاس محفوظ رکھے۔

بہتر ہے کہ اسکو سکین کر کے اپنی گوگل ڈرائیو پہ محفوظ کر لیں تاکہ ظرورت کے وقت با آسانی دستیاب ہو سکیں۔

پروٹیکٹر حاصل کرنے اور ویلفیئر فنڈ جمع کروانے والے تمام اہل شہری ازخود او پی ایف (OPF) کے لازمی ارکان میں شامل ہو جاتے ہیں۔ 

او پی ایف کے موجودہ قواعد کے مطابق شہری کے انتقال کی صورت میں 4 لاکھ روپے ڈیتھ فنانشل ایڈ اور مستقل معذوری پر 3 لاکھ روپے ڈس ایبلٹی فنانشل ایڈ فراہم کی جاتی ہے۔ 

اس کے علاوہ متوفی کے خاندان کے لیے 25 ہزار روپے کی فیونرل گرانٹ (تدفین امداد) بھی فراہم کی جاتی ہے، جس کے لیے درخواست انتقال کے ایک ماہ کے اندر دینا لازمی ہوتی ہے، جبکہ فنانشل ایڈ کے لیے درخواست جمع کروانے کیلئے بنیادی مدت ایک سال ہے۔

دوسری جانب اسٹیٹ لائف کی ایمیگرنٹ انشورنس کے تحت بنیادی سرکاری کوریج 10 لاکھ روپے ہے جس کی میعاد 5 سال تک مقرر ہے۔

 اس لیے بیرونِ ملک جانے والے ہر شہری کو چاہیے کہ وہ پروٹیکٹر اور انشورنس کا تمام ریکارڈ صرف اپنے پاس ہی نہ رکھے، بلکہ اس کی مکمل نقول پاکستان میں اپنے والدین، شریکِ حیات یا بااعتماد قانونی وارث کے پاس بھی محفوظ کروائے، تاکہ کسی بھی ناگہانی حادثے یا وفات کی صورت میں اسٹیٹ لائف انشورنس کلیم اور او پی ایف فنانشل ایڈ کے حصول میں خاندان کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اسکا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان تمام ڈاکیومنٹس کو سکین کر کے اپنے گوگل ڈرائیو پہ اپ لوڈ کر لیں اور اسکا لنک اپنی فیملی سے شئیر کر دیں۔

📤 شیئر کریں: 📱 واٹس ایپ 📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

Leave a Comment

📊 KP آج — لائیو
Tuesday، 1 September 2026
اسلامی تاریخ — 2026
🌤️ پشاور
38°C
صاف آسمان، گرم
💵 USD/PKR
278
▲ تازہ
⛽ پیٹرول
248 Rs
▼ فی لیٹر
🥇 سونا
236K
▲ تازہ

📱 واٹس ایپ الرٹ

KP کی تازہ خبریں اور جابز — سیدھے واٹس ایپ پر پائیں

📲 ابھی جوائن کریں
KP Updates