گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں بجلی کی پیداوار اور ڈیمانڈ کا سسٹم کافی تنزلی کا شکار ہے۔ ملک کی مجموعی پن بجلی (ہائیڈل) پیداوار کا 50 سے 55 فیصد خیبر پختونخوا کے آبی ذخائر اور ڈیموں (تربیلا، غازی بروتھا، ورسک، اور مالاکنڈ وغیرہ) کے ساتھ ساتھ گیس، بائیو ماس اور سولر توانائی کے وسائل سے بھی بجلی بنائی جاتی ہے، جہاں سے Khyber Pakhtunkhwa Grid System کے ذریعے 5,500 سے 6,500 میگاواٹ بجلی کی ترسیل ممکن بنائی جاتی ہے۔
اگر خیبر پختونخوا کی مجموعی طلب کو دیکھا جائے تو یہ تقریباً 2500 سے 3200 میگاواٹ ہے، جس کا مطلب ہے کہ صوبہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد بھی 2,500 سے 3,500 میگاواٹ اضافی سستی بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کرتا ہے۔

۔صوبے میں پن بجلی سمیت متعدد ذرائع سے بجلی کی وافر پیداوار کے باوجود خیبر پختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ پاور سیکٹر پر وفاق کا کنٹرول اور باقی صوبوں کو اسکی غیر منصفانہ ترسیل ہے۔
لہٰذا ان وسائل سے صوبے کو بھرپور معاشی فائدہ دلانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پیدا ہونے والی سستی بجلی کو صوبائی کنٹرول کے تحت مؤثر ٹرانسمیشن نظام کے ذریعے براہِ راست مقامی صنعتوں اور دیگر صارفین تک پہنچایا جائے۔
صوبائی حکومت کے موجودہ منصوبوں کا مقصد نا صرف بجلی کی ترسیل کی صلاحیت کو بڑھانا ہے بلکہ صوبے میں پیدا ہونے والی نسبتاً سستی پن بجلی کو صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا بھی ہے۔
صوبے میں پن بجلی کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کی سولر سکیم کے ذریعے بھی شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
Khyber Pakhtunkhwa Grid System کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
خیبر پختونخوا پاکستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں پن بجلی پیدا کرنے کے قدرتی وسائل وافر موجود ہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں پن بجلی کے کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کئی کچھ بڑے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔
جنوری 2026 میں صوبائی حکومت اپنے مقامی وسائل سے مکمل کیے گئے 10 توانائی منصوبوں سے مجموعی طور پر 224 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل کر رہی تھی۔ ان منصوبوں سے صوبے کو سالانہ تقریباً 5 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کی اطلاعات بھی ہیں، جبکہ زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل کے بعد سستی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت تقریباً 1000 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

اگر پید شدہ بجلی کو صارفین اور صنعتی مراکز تک پہنچانے کے لیے مناسب ٹرانسمیشن لائنیں، گرڈ اسٹیشنز اور مربوط نظام موجود نا ہوں تو پیداواری صلاحیت کا مکمل فائدہ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئےتحت صوبائی حکومت نے صوبے میں KP Transmission and Grid System کو ترقی دینے پرسنجیدگی سے کام کر رہی ہے، جبکہ اس بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ترسیلی نظام کی فعالیت کے لیے خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کو کلیدی کردار سونپا گیا ہے۔
صنعتوں کے لیے سستی بجلی کا راستہ
صوبائی حکومت کے گرڈ اور ٹرانسمیشن منصوبوں کا ایک اہم مقصد صنعتی شعبے کو زیادہ قابلِ اعتماد، بلا تعطل اور نسبتاً کم لاگت بجلی کی فراہمی ہے۔ صنعتی علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ بھی قائم کیا ہے۔جس میں متعلقہ صوبائی حکام، صنعتی صارفین اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

صنعتی شعبے کے لیے مناسب لاگت پر اور مسلسل بجلی کی فراہمی اس لیے اہمیت رکھتی ہے کہ بجلی کی قیمت براہِ راست پیداواری لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر صوبے کے مقامی پن بجلی منصوبوں سے حاصل شدہ بجلی کو بہتر ٹرانسمیشن نیٹ ورک کے ذریعے ان صنعتی علاقوں تکفراہم کیا جائے تو صنعتوں کے بجلی کے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ جس سے صنعتوں میں تیار شدہ اشیا کی لاگت میں کمی کے باعث ملکی اور عالمی منڈی میں بہتر ترسیل کر سکتے ہیں۔
Direct Supply Model کیا ہے؟
خیبر پختونخوا حکومت بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے ساتھ ساتھ، صنعتی صارفین کو بلا تعطل اور سستی بجلی کی براہِ راست فراہمی کے لیے مختلف عملی ماڈلز پر بھی سنجیدگی اور تیزی سے کام کر رہی ہے۔
صوبائی حکومت کے جائزہ ریکارڈ کے مطابق، صنعتوں کو براہِ راست بجلی کی فروخت کے لیے Direct Supply Model کے ابتدائی پائلٹ مرحلے پر کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسابقتی تجارتی معاہدوں یعنی Competitive Trading Bilateral Contract Market (CTBCM) کے فریم ورک کے تحت بھی مقامی صنعتوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی ٹھوس تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
اس ماڈل کی اہمیت اسلئے بھی ہے کہ مستقبل میں صوبے کےمقامی پن بجلی کے منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی اور صنعتی صارفین کے درمیان براہِ راست تجارتی رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوجاتا ہے تو صوبےکیلئے اپنی توانائی کو صنعتوں کے ساتھ جوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔
KP Grid System اور نئی ٹرانسمیشن لائنیں
صوبے بھر موجودہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے اور بجلی کی ترسیلی صلاحیت بڑھانے کے لیے متعدد اہم منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
فروری 2026 میں سوات میں تقریباً 22 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا تعلق PEDO کے توانائی منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل سے ہے۔
اسی طرح مٹلتان (سوات میں کالام کے قریب ایک خوبصورت علاقہ ہے جہاں خیبر پختونخوا حکومت (PEDO) کا 84 میگاواٹ کا مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بن رہا ہے) سے مدین تک 132/220 کے وی کی تقریباً 40 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن بھی ان اہم منصوبوں کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد سوات کے توانائی منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کو زیادہ مؤثر انداز میں منتقل کرنے کے لیے ضروری ترسیلی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔
صوبائی حکومت کے جائزہ ریکارڈ میں PEDO کے متعدد منصوبوں سے متعلق ٹرانسمیشن لائنوں اور دیگر متعلقہ اثاثوں کو KPT&GSC کے حوالے کرنے کا عمل بھی شامل کیا گیا ہے۔
Khyber Pakhtunkhwa Hydropower Projects میں توسیع
ایک فعال گرڈ اسٹیشن اور مضبوط ٹرانسمیشن نظام کی ناگزیر ضرورت کو سمجھنے کے لیے، صوبے میں جاری اور تکمیل کے قریب پن بجلی منصوبوں کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا میں متعدد بڑے KP Hydropower Projects زیر تعمیر ہیں جن میں:
300 میگاواٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ-
157 میگاواٹ مادیان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ-
– 88 میگاواٹ گبرال کلام ہائیڈرو پاور پراجیکٹ
– 69 میگاواٹ لاوی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ
– 84 میگاواٹ مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ
شامل ہیں۔
مارچ 2026 کے جاری کردہ صوبائی جائزہ ریکارڈ کے مطابق بالاکوٹ اور لاوی منصوبوں کو پیش رفت کے اعتبار سے On-Track قرار دیا گیا تھا، جبکہ مادیان اور گبرال کلام منصوبوں میں تاخیر رپورٹ کی گئی۔
ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد بجلی کی فوری منتقلی کے لیے ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی بروقت توسیع اوربھی ضروری ہوگی۔ بصورت دیگر پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو مکمل طور پر استعمال یا فروخت کرنےکی کوشش متاثر ہو سکتی ہے۔
Cheap Electricity in Khyber Pakhtunkhwa سے عام شہریوں کو کیا فائدہ ہوگا؟
صوبے کے اپنے گرڈ اور ٹرانسمیشن نظام کا بنیادی مقصد فوری طور پر گھریلو صارفین کے بجلی کے بلوں کو کم کرنا نہیں ،بلکہ اس منصوبے کاسب سے بڑا فوکس بجلی کی بلا تعطل ترسیل، صنعتی صارفین اور صوبے کے اپنے توانائی منصوبوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے پر ہے۔ تاہم طویل مدتی بنیادوں پہ اس کے اثرات سےعام شہری بھی مستفید ہو سکیں گے۔
اگر صنعتی شعبے کومسلسل اور کم لاگت بجلی دستیاب ہوتی ہے تو نئی صنعتوں کے قیام، موجودہ صنعتوں کی توسیع اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے واضح امکانات پیدا ہوں گے۔ جس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت اپنے پن بجلی منصوبوں سے آمدن حاصل کر کے اسے مزید ترقیاتی اور توانائی منصوبوں میں استعمال کرنے کی بہتر پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
پن بجلی سے صوبائی معیشت تک
خیبر پختونخوا کے لیے پن بجلی صرف بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی ترقی حاصل کرنے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔
صوبے میں پانی کے وافر قدرتی وسائل موجود ہیں اور کئی علاقوں میں پن بجلی کے منصوبوں کے ذریعے ان واسائل کو بروئے کار لا کے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیکن اصل چیلنج پیدا کی جانے والی بجلی کو ایسے نظام کے ذریعے صارفین تک پہنچایا جائے جو تکنیکی طور پر مضبوط، قابلِ اعتماد اور معاشی طور پر مؤثر ہو۔

اگر بجلی کی پیداوار، ٹرانسمیشن اور صنعتی کھپت کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کر دیا جاتا ہے تو صوبہ اپنی اس توانائی کی صلاحیت کو صنعتی ترقی میں تبدیل کرکے ناصرف شہریوں بلکہ صوبے کی بھی قسمت بدل سکتا ہے۔
جبکہ صنعتی زونز میں سرمایہ کاری، روزگار، کاروباری سرگرمیوں اور صوبے کو آمدن میں اضافے کے مواقع دستیاب ہو سکتے ہیں۔
صوبے کودرپیش چیلنجز
اپنا ٹرانسمیشن اور گرڈ نظام قائم کرنا ایک طویل مدتی اور بھاری سرمایہ کاری والا منصوبہ ہے۔ اس کے لیے صرف ٹرانسمیشن لائنیں بچھانا کافی نہیں بلکہ ایک جدید گرڈ انفراسٹرکچر، گرڈ اسٹیشنز، تکنیکی ماہرین اور مؤثر آپریشن و دیکھ بھال کا نظام بھی بہت ضروری ہوگا۔
اس کے علاوہ مختلف منصوبوں کی بروقت تکمیل، ریگولیٹری منظوریاں اور وفاقی اداروں کے ساتھ روابط بھی اہم عوامل میں شامل ہوں گے۔
پن بجلی سے ترسیل تک: توانائی حکمت عملی اور مستقبل کا منظرنامہ
خیبر پختونخوا حکومت کی موجودہ پالیسی یہ واضح کرتی ہے کہ صوبہ اب محض پن بجلی کی پیداوار تک محدود رہنے کے بجائے ترسیل اور صنعتی کھپت کے پورے نظام میںخود مختار ہونا چاہتا ہے۔
31 اگست 2026 کو ورلڈ بینک کے وفد سے ملاقات میں صوبائی حکومت نے ہائیڈل منصوبوں اور ٹرانسمیشن لائن نیٹ ورک پر بریفنگ دے کر اس سمت میں اپنی سنجیدگی کو ظاہر کیا۔
اس نئی حکمت عملی کے اہم نکات:
- ٹرانسمیشن نیٹ ورک: نیشنل گرڈ پر انحصار کم کر کے صوبے کا اپنا ترسیلی نظام قائم کرنا اور صنعت کے ساتھ عام صارفین کو بھی بلا ناغہ بجلی کی ترسیل کرنا۔
- صنعتی ترقی: سستی ہائیڈل پاور براہ راست مقامی صنعتوں کو دے کر پیداواری لاگت کم کرنا تاکہ عالمی مارکیٹ کا مقابلہ ہو سکے۔
- عالمی شراکت داری: ہائیڈل منصوبوں میں ورلڈ بینک اور عالمی اداروں کے تعاون سے جدید انفراسٹرکچر بنانا تاکہ اسکو عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔
- مکمل کنٹرول: پیداوار سے لے کر ترسیل تک توانائی کی پوری سپلائی چین پر صوبائی عملداری قائم کرنا۔
اگر جاری منصوبے مقرر کردہ اہداف کے مطابق مکمل ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ ضروری ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر بھی بروقت تیارہوجاتا ہے تو خیبر پختونخوا مستقبل میں اپنی پن بجلی کی صلاحیت کو صنعتی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر کے صوبے کو معاشی ترقی کی راہ پہ گامزن کر سکتا ہے۔
نتیجہ
خیبر پختونخوا کا اپنا گرڈ اور ٹرانسمیشن نظام صوبے کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ جس کا مقصد نا صرف بجلی کی ترسیل کو بہتر بنانا بلکہ صوبے کے پن بجلی وسائل کو صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا بھی ہے۔
Cheap Electricity in Khyber Pakhtunkhwa کا ہدف اسی وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوگا جب بجلی کی پیداوار، ترسیل اور صنعتی کھپت کے درمیان مضبوط اور قابلِ اعتماد نظام قائم کیا جائے۔
اس منصوبے کی کامیابی کا مکمل انحصار پن بجلی منصوبوں کی بروقت تکمیل، مضبوط ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر، مؤثر انتظام، مناسب ریگولیٹری فریم ورک اور صنعتی صارفین تک بجلی کی بہتر اور مسلسل فراہمی پر ہوگا۔
ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد خیبر پختونخوا کے آبی وسائل محض بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں رہیں گے، بلکہ صوبے کی صنعتی اور معاشی ترقی کا اصل محرک بن جائیں گے۔ جو صوبے کی خوشحالی کا باعث بنے گا۔