تحریر: ایڈیٹوریل ٹیم، کے پی اپڈیٹس (KP Updates)
تاریخ: 31 جولائی 2026
خیبرپختونخوا اپنے بے مثال قدرتی حسن، سرسبز وادیوں اور فلک بوس پہاڑوں کی بدولت ہمیشہ سے ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں سیاح ان حسین مناظر کو قریب سے دیکھنے اور اپنی یادگاریں بسانے کے لیے اس خطے کا رخ کرتے ہیں۔
KPK Tourism Roads Upgradation کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
ان لاکھوں سیاحوں کی آمدورفت جہاں خیبر پختونخوا کیلئے ایک خوش آئند ہے کہ اس سے صوبے کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے پیش ہوتا ہے۔ وہی اس بات کی ضرورت بھی محسوس کی جاتی رہی کہ آنے والے مہمانوں چاہے وہ ملکی ہوں یا بین الا قوامی انکے سفر کو محفوظ اور آرام دہ بنانا چائیے تاکہ یہ سیاح واپس جا کے ایک مثبت تصویر دنیا میں پیش کر سکیں۔

صوبائی حکومت نے بالآخر صوبے میں سیاحتی شعبے کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور قدرتی حسن سے مالا مال وادیوں کو سفری سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے ایک بڑے اور تاریخی ترقیاتی پیکیج منظور کر دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبے کے 4 اہم اضلاع کے لیے 17 سیاحتی سڑکوں کو اپگریڈ کرنے اور کچھ نئی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کی حتمی منظوری دی گئی ہے، جن پر مجموعی طور پر تقریباً 5 ارب روپے لاگت آئے گی۔
اس منصوبے کے مطابق 91.5 کلومیٹر طویل سڑکوں کی نئی تعمیر، بحالی اور اپ گریڈیشن کی جائے گی تاکہ مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے ان دلکش مقامات تک رسائی کو محفوظ، تیز اور آسان بنایا جا سکے۔
KPK Tourism Roads Upgradation سے کون سے اضلاع مستفید ہوں گے؟
یہ 17 سڑکیں صوبے کے جن چار بنیادی سیاحتی زونز میں تعمیر کی جا رہی ہیں جو اپنی بے مثال قدرتی خوبصورتی، برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں، جھیلوں، آبشاروں اور قدیم ثقافتی ورثے کے لیے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں:
- اپر چترال (Upper Chitral)
- سوات (Swat)
- اپر دیر (Upper Dir)
- لوئر دیر (Lower Dir)
ان سڑکوں کی تکمیل کے بعد نا صرف ان سیاحتی مقامات تک رسائی آسان ہوگی بلکہ متعدد ایسے نئے اور گمنام علاقے جو ابھی تک خراب راستوں اور مشکل رسائی کی وجہ سے سیاحوں کیلئے اوجھل تھے وہ بھی ان سڑکوںکی بحالی و اپ گریڈیشن کی وجہ سے کھل جائیں گے ۔

17 سیاحتی سڑکوں کی تفصیلات اور لوکیشنز (District Wise Breakdown)
حکومت کے منظور کردہ پلان کے مطابق جن اضلاع کی سڑکوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا وہ درج ذیل ہے:
1. اپر چترال (Upper Chitral)
- قلاشت – میندور روڈ: 4 کلومیٹر طویل سڑک کی مکمل اپ گریڈیشن اور پختگی۔
2. سوات (Swat Valley)
سوات میں سیاحتی بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل 7 اہم سڑکوں پر کام ہوگا:
- شابی باغ – انزور روڈ
- ڈاگ سر روڈ
- شین کو – دزڑ روڈ
- مانکیال – کورزئی روڈ
- سلاتن روڈ
- گبین جَبہ روڈ (Gabin Jabba Access Road)
3. اپر دیر (Upper Dir)
اپر دیر کی وادیوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے منظور شدہ منصوبے:
- برکند – اشیری روڈ
- زندک – کنڈاؤ تا کنوڑہ روڈ
- اشریت – گوالڈی – ناسربندہ – شابی روڈ
4. لوئر دیر (Lower Dir)
لوئر دیر میں سفری دشواریوں کو ختم کرنے کے لیے 7 سڑکیں شامل کی گئی ہیں:
- زیڑ اسمان – خوشحال پٹے روڈ
- سیا تا حیدرکنڈاؤ روڈ
- انسکی برج – چرئی روڈ
- اسو روڈ
- مناشی – جاکنزیبا روڈ
- باغ نازری – کنڈاؤ روڈ
- مینشار – برا تا دشت لیلی روڈ

اس انفراسٹرکچر سے کے پی کے کی سیاحت پر کیا اثر پڑے گا؟
کسی بھی خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کی پہلی اور بنيادی شرط بہتر اور اچھا انفراسٹرکچر ہوتا ہے۔ جب سڑکیں ہموار اور محفوظ ہوں گی تو:
- سفری وقت میں نمایاں کمی: سیاح گھنٹوں کا سفر منٹوں میں آرام سے طے کر سکیں گے۔
- حفاظت میں اضافہ: دشوار گزار پہاڑی راستوں پر حادثات کا خطرہ ختم ہو جائے گا،جس سے سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا۔
- نئے سیاحتی زونز کی دریافت: لوگ روایتی مقامات کے علاوہ دور دراز ان وادیوں کا بھی رخ کریں گے، جو ابھی تک سیاحوں کی رسائی سے دور تھی۔

مقامی معیشت اور روزگار پر مثبت اثرات
5 ارب روپے کی اس خطیر سرمایہ کاری کا سب سے زیادہ فائدہ مقامی آبادی کوملے گا۔ جبکہ انفراسٹرکچر کی اس بہتری کے بعد درج ذیل معاشی فوائد حاصل ہوں گے:
- ہوٹلنگ و ریسٹورنٹ انڈسٹری: نئے ہوٹلز، کیفے اور گیسٹ ہاؤسز کی تعمیر میں اضافہ ہوگا۔ جو مقامی طور پہ کاروبار کی ترقی کا باعث بنے گا۔
- روزگار کے نئے مواقع: مقامی نوجوانوں کے لیے بطور ٹور گائیڈ، ڈرائیور اور ہوسپٹیلٹی اسٹاف کی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ اور بیروزگاری کے خاتمے سے علاقے میں لوگ خوشحال ہوں گے جو ملکی معیشت پہ بھی اچھا اثر ڈالیں گے۔
- مقامی مصنوعات و ہینڈی کرافٹس: مقامی دستکاری، میوہ جات اور سوغاتوں کی فروخت بڑھ جائے گی۔ جو ان علاقوں کی خوشحالی کا سبب بنے گا۔
- پرائیویٹ انویسٹمنٹ: نجی سرمایہ کار ان علاقوں میں ریزورٹس اور ایڈونچر اسپورٹس پارکس بنانے کے لیے آگے آئیں گے۔ جس سے صوبے اور ملک کو ریونیو کمانے کے نئے موقع ملیں گے جو اس وقت ملکی معیشت کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔
پائیدار سیاحت اور وزیراعلیٰ کا وژن
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کی ہماری حکومت کا مقصد صرف عارضی سیاحت کو فروغ دینا نہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی (Sustainable Tourism) کی بنیاد رکھنا ہے۔ ماحول دوست انفراسٹرکچر کی تعمیر سے قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔

خلاصہ (Conclusion)
خیبرپختونخوا حکومت کا 17 سیاحتی سڑکوں کی منظوری کا فیصلہ صوبے میں سیاحت، معیشت اور روزگار کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔
91.5 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کے بعد سوات، دیر اور چترال جیسے جنت نظیر علاقے مزید نکھر کر سامنے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ریواٹلائزیشن پلان: 34 پارکس کی اپ گریڈیشن اور جدید سہولیات کا مکمل جائزہ
اگر یہ منصوبے طے شدہ وقت میں مکمل ہو جاتے ہیں تو ان سے خیبرپختونخوا کی معیشت کو طویل المدتی اور پائیدار فوائد حاصل ہوں گے۔