لوڈ ہو رہا ہے... | 🌤 پشاور: 38°C
خیبر پختونخوا

Net Metering Policy 2026: PESCO اور TESCO صارفین کے لیے مکمل گائیڈ

پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگے یونٹس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے اثرات نا صرف پاکستان بلکہ خیبر پختونخوا کے شہریوں پہ بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ اس بدترین صورتحال کے باعث اب عوام میں سولر سسٹم  تیزی سےمقبول ہو رہا ہے۔ 

تاہمNet Metering Policy 2026 میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے سولر صارفین کے لیے یہ حساب کتاب کا طریقہ بھی تبدیل کر دیا ہے۔ جس کے مطابق اب نئے صارفین کے لیے صرف اضافی بجلی گرڈ میں بھیجنا کافی نہیں، بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ درآمد  اور برآمد شدہ بجلی کی قیمت کیسے طے کی جائے گی ۔ خیبر پختونخوا میں PESCO اور TESCO کے صارفین کے لیے یہ تبدیلی خاصی اہمیت کی حامل ہے۔

Net Metering Policy 2026

9 فروری 2026 کو NEPRA نے Prosumer Regulations 2026 نافذ کیے، جبکہ بعد میں ان میں مزید ترامیم بھی کی گئیں۔ اس نئے فریم ورک نے پرانے یکساں یونٹ کے بدلے یونٹ والے تصور سے ہٹ کر درآمد اور برآمد شدہ بجلی کی الگ مالی قدر کا نیا نظام متعارف کرایا۔

پرانے میٹرنگ کےنظام میں کسی بھی سولر صارف کے لیے گرڈ کو دی گئی اضافی بجلی اور گرڈ سے لی گئی بجلی کے درمیان براہِ راست یونٹ ایڈجسٹمنٹ کا تصور تھا۔ اسی وجہ سے سولر سسٹم پہ کی گئی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ اس سے حاصل شدہ اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کرنے سے پورا کیا جا سکتا تھا۔

نئے نظام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ:

  • گرڈ سے حاصل کردہ اور استعمال کی جانے والی بجلی صارف کے مروجہ ٹیرف کے مطابق بل میں شامل کی جائے گی.
  • سولر سسٹم سے گرڈ کو بھیجی گئی اضافی بجلی اب الگ قیمت پر خریدی جائےگی۔
  • اس کا مطلب کہ  گرڈ سے خریدے گئے ایک  یونٹ اور گرڈ کو فروخت کردہ  ایک یونٹ کی مالی قدر  برابر نہیں ہوگی۔
  • نتیجتاً سولر صارف کی خود استعمال یعنی Self-Consumption پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
Net Metering سے Net Billing تک کیا تبدیل ہوا؟

NEPRA کے 2026 کے قواعد و ضوابط کے مطابق نئے صارفین کو گرڈ میں بھیجی گئی سولر بجلی کی قیمت ایک مقررہ قومی اوسط کے حساب سے ملے گی، جبکہ متعلقہ گرڈ سے صارف کی استعمال کی جانے والی بجلی کا بل صارف کے موجودہ بجلی کے ٹیرف کے مطابق ہوگا۔۔

یہ تبدیلی سولر سسٹم خریدنے والے ہر شخص کو یہ سوچنے پہ مجبور کرتی ہے کہ کیا بڑا سولر سسٹم لگا کر زیادہ بجلی گرڈ کو بیچنا فائدہ مند ہے، یا دن کے وقت زیادہ سے زیادہ بجلی خود استعمال کرنا بہتر ہے؟

2026 کے نظام میں عمومی طور پر دوسرا طریقہ زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

عام بجلی کا میٹر بنیادی طور پر گرڈ سے استعمال ہونے والی بجلی کو ریکارڈ کرتا ہے، جبکہ سولر کے ساتھ استعمال ہونے والا دو طرفہ میٹر درآمد اور برآمد دونوں طرح کی بجلی کی  پیمائش کر سکتا ہے۔

مثلاً دن کے وقت سولر پینلز بجلی  پیدا کرتے ہیں۔ اگر گھر میں اس وقت بجلی کی ضرورت کم ہو تو اضافی بجلی گرڈ  کو بھیج دی جاتی ہے۔ شام یا رات کو جب سولر پیداوار کم یا ختم ہو جاتی ہے تو صارف دوبارہ گرڈ سے بجلی لیتا ہے۔

اس نظام میں بنیادی طور پر دو ریڈنگز اہم ہوتی ہیں:

امپورٹ: گرڈ سے حاصل کی گئی بجلی۔

ایکسپورٹ: سولر سسٹم سے گرڈ کو فراہم کی گئی اضافی بجلی۔

نئے نیٹ میٹرنگ بلنگ سسٹم میں سولر سے گرڈ کو دی گئی بجلی اور گرڈ سے لی گئی بجلی کا حساب الگ الگ کیا جاتا ہے۔ اس لیے صرف سولر سے پیدا ہونے والے یونٹس دیکھنا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کتنی بجلی گھر میں استعمال ہوئی اور کتنی گرڈ کو دی گئی۔

حکومت اور NEPRA کی جانب سے سولر پالیسی میں تبدیلی کی بنیادی وجوہات میں گرڈ کے مالی دباؤ، مقررہ اخراجات اور بڑھتی ہوئی rooftop solar generation شامل ہیں۔

مارچ 2025 میں ECC نے گرڈ کو دی جانے والی سولر بجلی کے ہر یونٹ کی قیمت 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کی سفارش کی تھی۔ بعد میں 2026 کے جاری کردہ نئے قواعد میں اس قیمت کو قومی اوسط خریداری قیمت سے جوڑ دیا گیا۔ اس لیے پرانے 19 سے 22 روپے فی یونٹ والے ریٹ کو نئے صارفین کے لیے موجودہ ریٹ سمجھنا درست نہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ گرڈ کو فراہم کی جانے والی سولر بجلی  کے یونٹ کی قیمت وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس لیے سولر سسٹم لگوانے سے پہلے وینڈر کی بتائی ہوئی قیمت پر بھروسہ کرنے کے بجائے موجودہ NEPRA قواعد اور اس وقت کے ریٹ کی تصدیق ضرور کریں۔

PESCO خیبر پختونخوا کے ایک بڑے حصے کو بجلی کی فراہمی کرتی ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواست دینے کا مکمل طریقہ اور ضروری ہدایات موجود ہیں، جن میں سولر سسٹم کی جانچ اور منظوری کے مختلف مراحل کی وضاحت تفصیلا کی گئی ہے۔

PESCO Net Metering

PESCO صارف کو بنیادی طور پر یہ باتیں ذہن میں رکھنی چاہییں:

  1. موجودہ بجلی کے کنکشن کی نوعیت اور منظور شدہ لوڈ چیک کریں۔
  2. اپنے سولر سسٹم کی صلاحیت منظور شدہ لوڈ اور قابل اطلاق قواعد کے مطابق رکھیں۔
  3. منظور شدہ تکنیکی معیار کے مطابق انورٹر اور حفاظتی نظام کا استعمال کریں۔
  4. درخواست کے ساتھ درکار دستاویزات کی مکمل فراہمی کو یقینی بنائیں۔
  5. متعلقہ PESCO دفتر سے تکنیکی منظوری اور نیٹ میٹرنگ کے مراحل مکمل کریں۔
  6. میٹر کی تنصیب کے بعد بل میں درآمد اور برآمد شدہ بجلی کی ریڈنگ کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہا کریں۔

PESCO کی موجودہ ویب سائٹ پر بھی نیٹ میٹرنگ کے لیے باقاعدہ  الگ سیکشن موجود ہے، اس لیے صارف کو غیر سرکاری ایجنٹ کی معلومات کے بجائے کمپنی اور NEPRA کے تازہ ترین قواعد کو ترجیح دینی چاہیے۔

یہ فریم ورک تمام TESCO صارفین کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ NEPRA کے ریکارڈ کے مطابق 2026 میں TESCO کے صارفین کے لیے سولر بجلی کی منظوری کے معاملات جاری رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے قواعد کے تحت درخواستوں پر کارروائی ہو رہی ہے۔۔

TESCO Net Metering

ضم شدہ اضلاع سمیت TESCO کے صارفین کے لیے درخواست دیتے وقت خاص طور پر یہ ضروری ہے کہ:

  • کنکشن کی تفصیلات مکمل طور پہ درست فراہم کریں۔
  • ملکیتی دستاویزات مکمل ہوں۔
  • بجلی کے بل پر کوئی غیر ضروری تنازع یا بقایا جات نا ہوں۔
  • سولر سسٹم کی تکنیکی تفصیلات درست ہوں۔
  • انورٹر اور حفاظتی نظام متعلقہ گرڈ کنکشن کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔
  • درخواست کا ریکارڈ اور جمع شدہ فیس کی رسید اپنے پاس محفوظ رکھی جائے۔

TESCO کے صارفین کے لیے مقامی سطح پر عمل درآمد کا دورانیہ مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے کسی وینڈر کی مقررہ مدت کو سرکاری ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔

سولر سسٹم کو قانونی طور پر گرڈ سے منسلک کرنے کا عمل عما طور پہ کئی مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ عملی طریقہ کار متعلقہ DISCO، نظام کی صلاحیت اور موجودہ قواعد کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

ایسے وینڈر یا انسٹالرکو منتخب کریں جو متعلقہ سرکاری تقاضوں کے مطابق کام کرتا ہو اور تکنیکی دستاویزات  مکمل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ AEDB کو 2023 میں PPIB میں ضم کر دیا گیا تھا، اس لیے اب اسےعلیحدہ ادارہ نہیں سمجھا جاتا۔ سولر سسٹم لگوانے سے پہلے موجودہ سرکاری قواعد کے مطابق منظور شدہ وینڈر اور اس کی تصدیق ضرور چیک کر لیں۔

صارف کے منظور شدہ لوڈ، موجودہ کنکشن اور متعلقہ سولر سسٹم کی صلاحیت کا مکمل جائزہ لیا جاتا ہے۔

مثلاً اگر صارف اپنے لئے ایک بڑا سولر سسٹم لگانا چاہتا ہے تو  اسکے لئے پہلے یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ اس کے موجودہ کنکشن اور منظور شدہ لوڈ کے ساتھ وہ صلاحیت قابل قبول ہے یا نہیں۔

اس لئے  پرانے قواعد اور 2026 کے قواعد کو آپس میں ملانا درست نہیں، کیونکہ 2026 میں Prosumer framework نافذ ہو چکا ہے اور بعد میں اس میں مزید ترامیم بھی کی گئی ہیں۔

عام طور پر درخواست کے لیے درج ذیل نوعیت کی دستاویزات درکار ہو سکتی ہیں:

  • شناختی کارڈ کی کاپی
  • بجلی کے بل کی کاپی
  • ملکیتی ثبوت
  • سولر پینلز کی تکنیکی تفصیلات
  • انورٹر کی تکنیکی تفصیلات
  • سنگل لائن ڈایاگرام
  • حفاظتی نظام کی تفصیلات
  • متعلقہ درخواست فارم اور دیگر مطلوبہ دستاویزات

حتمی فہرست متعلقہ DISCO کے موجودہ SOP اور درخواست کی نوعیت کے مطابق ضرور چیک کی جانی چاہیے۔

درخواست کی منظوری سے پہلے صرف گھر کی چھت اور سولر پینلز نہیں دیکھے جاتے بلکہ گرڈ سے کنکشن کی تکنیکی گنجائش بھی اہم ہوتی ہے۔

نئے Prosumer rules میں تقسیم کار کمپنی کو گرڈ کی تکنیکی حدود، ٹرانسفارمر کی صلاحیت اور interconnection requirements کو مدنظر رکھنا لازمی  ہے۔بڑے سولر سسٹمز کے لیے اضافی تکنیکی جانچ پڑتال بھی ضروری ہو سکتی ہے۔

تمام ضروری تکنیکی مراحل مکمل ہونے کے بعد متعلقہ منظوری، فیس اور نیٹ میٹرنگ کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔

دو طرفہ میٹر اس  صارف کی درآمد اور برآمد شدہ بجلی کی مکمل  پیمائش کرتا ہے۔ اس کے بعد بلنگ کا عمل نافذ شدہ Prosumer قواعد کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔

نئے نظام کے مطابق صارف اور تقسیم کار کمپنی کے درمیان Prosumer/Net Billing arrangement اہم ہے۔

یہاں صارف کو بطور خاص  یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گرڈ کو بھیجا گیا بجلی کا  ہر یونٹ اسی قیمت پر  لازماً کریڈٹ نہیں کیا جائے گا جس قیمت پر گرڈ سے بجلی خریدی جا رہی ہے۔

نیٹ میٹرنگ (یا پروزیومر سسٹم) کی تنصیب پر آنے والی لاگت تمام صارفین کے لیےایک جیسی نہیں ہوتی، بلکہ اس کا دارومدار سسٹم کے سائز، درکار سازوسامان، تکنیکی تقاضوں اور وینڈر کی فیس پر منحصرہوتا ہے۔

Net Metering Cost in Pakistan

لاگت کا تفصیلی جائزہ

  • نیپرا کنکرنس فیس (NEPRA Concurrence Fee): نیپرا قواعد کے تحت 25 کلوواٹ تک کے رہائشی یا کمرشل سولر سسٹمز پر کوئی کنکرنس فیس نہیں ہے، جبکہ 25 کلوواٹ سے زائد کی صلاحیت پر 1,000 روپے فی کلوواٹ کے حساب سے یکمشت فیس وصول کی جاتی ہے۔
  • سبز / دو طرفہ میٹر (Bi-directional Green Meter): نیپرا کی جانب سے گرین میٹر کی کوئی مقررہ قیمت طے نہیں کی گئی۔ اگر متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی (جیسے PESCO) کے پاس میٹر کا اسٹاک دستیاب نہ ہو تو صارف منظور شدہ مینوفیکچرر سے خود بھی میٹر خرید سکتا ہے، جسے تنصیب سے قبل ڈسکوز کی لیب سے ٹیسٹ اور کیلیبریٹ کروانا لازمی ہوتا ہے۔
  • پیسکو ریجن میں تخمینہ شدہ اخراجات: PESCO کے دائرہ کار میں گرین میٹر، ٹیسٹنگ فیس، فائل پروسیسنگ اور ضروری حفاظتی آلات سمیت مجموعی لاگت عام طور پر 60,000 سے 85,000 روپے کے درمیان رہتی ہے۔ یہ کوئی فکسڈ سرکاری فیس نہیں ہے، بلکہ سائٹ کے تقاضوں اور مارکیٹ ریٹ کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
  • اضافی تکنیکی کام: اگرمیٹر کی  تنصیب کے مقام پر ٹرانسفارمر کی صلاحیت بڑھانا، سروس ڈراپ کیبل تبدیل کرنا یا ارتھنگ (Earthing/Grounding) کا نیا نظام لگانا مقصود ہو تو یہ اضافی اخراجات الگ سے شامل ہوتے ہیں۔

صارفین کے لیے اہم احتیاط

وینڈر کو یکمشت رقم ادا کرنے کے بجائے اخراجات کی الگ الگ مکمل تفصیل (Itemized Quotation) طلب کریں، جس میں گرین میٹر کی اصل قیمت، ٹیسٹنگ و سرکاری چالان، وائرنگ یا تکنیکی تبدیلیوں کے چارجز اور وینڈر کی سروس فیس واضح طور پہ درج ہو۔

تفصیلی رہنمائی اور قواعد و ضوابط کے لیے PESCO کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب نیٹ میٹرنگ SOPs کا جائزی بھی لیا جا سکتا ہے۔

صارف کو ہر ادائیگی کے لیے:

  • سرکاری فیس کا نام
  • متعلقہ ادارہ
  • بینک/ادائیگی کا طریقہ
  • رسید
  • وینڈر کی سروس فیس

الگ الگ معلوم کرنی چاہیے۔

2026 کی پالیسی کا سب سے بڑا اثر سولر سرمایہ کاری کے معاشی ماڈل پرہوا ہے۔

گرڈ فروخت پر منافع میں کمی: پہلے نیٹ میٹرنگ سسٹم میں 1:1 یونٹ ایڈجسٹمنٹ یا برآمد شدہ یونٹس کی اچھی قیمت کی وجہ سے سارا انحصار گرڈ کو بجلیکی فروخت پر ہوتا تھا۔ اب حکومت کی جانب سے نیٹ بلنگ اور بائی بیک ریٹ میں کمی کے باعث گرڈ میں اضافی بجلی بھیج کر بل کم کرنے کا فائدہ کافی حد تک محدود ہو چکا ہے۔

براہِ راست کھپت (Self-Consumption): موجودہ حالات میں سب سے زیادہ بچت اسی وقت ممکن ہے جب دن کے اوقات میں پیدا ہونے والی شمسی بجلی کو فوراً خود استعمال کیا جائے۔ گرڈ سے مہنگی بجلی خریدنے کے مقابلے میں اپنی پیدا کردہ سستی بجلی موقع پر ہی استعمال کرنا زیادہ منافع بخش ہے۔

لوڈ شیڈولنگ کی اہمیت: واٹر موٹر، واشنگ مشین، اے سی، اور استری جیسے بھاری گھریلو آلات کو شام کے اوقات کے بجائے دھوپ کے  پیک   اوقات (صبح 10 سے دوپہر 3 بجے تک) چلانا مالی طور پر ناگزیر ہوچکا ہے۔

بیٹری اسٹوریج (Hybrid Systems) کا رجحان: گرڈ کو کم ریٹ پر بجلی بیچنے اور رات کے مہنگے پیک آورز میں مہنگی بجلی خریدنے کے فرق سے بچنے کے لیے لیتھیم بیٹریوں کے ذریعے ہائبرڈ سسٹم کی تنصیب اب زیادہ پائیدار اور  بہترمعاشی حل ثابت ہو رہا ہے۔

اسی لیے سولر صارف کے لیے تین چیزیں زیادہ اہم ہو گئی ہیں:

پہلی: دن کے وقت زیادہ بجلی خود استعمال کرنا۔

اگر سولر کی  بجلی اسی وقت گھر میں استعمال ہو جائے تو صارف کو گرڈ سے وہ یونٹ خریدنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

دوسری: سولر سسٹم کا درست سائز۔

بہت بڑا سسٹم صرف اس امید پر لگانا کہ اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کر کے زیادہ آمدنی ہوگی، نئے نظام میں اس کا پہلے جیسا فائدہ نہیں رہا۔

تیسری: بیٹری اور ہائبرڈ سولر کا جائزہ۔

اگر دن کے وقت اضافی سولر بجلی کو بیٹری میں محفوظ کر کے شام اور رات میں استعمال کیا جائے تو صارف اپنی پیدا کردہ بجلی کا زیادہ حصہ خود استعمال کر سکتا ہے۔ جو لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں کافی ریلیف کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ ہر صارف کے لیے ضروری نہیں، لیکن 2026 کے نئے نیٹ بلنگ ماحول میں بیٹری اسٹوریج کی اہمیت خاصی بڑھ گئی ہے۔

مثلاً اگر گھر دن کے وقت کم بجلی استعمال کرتا ہے لیکن شام کو اے سی، پنکھے، موٹر، لائٹس اور دیگر آلات زیادہ چلتے ہیں تو بیٹری سولر کی پیدا کردہ اضافی بجلی کو بعد میں لوڈ شیڈنگ اوقات میں استعمال کرنے کا موقع دیتی ہے۔

دوسری طرف بیٹری کی اپنی لاگت، عمر، replacement cost اور efficiency losses ہوتی ہیں۔ اس لیے صرف “بیٹری لگانے سے بل مکمل ختم ہو جائے گا”  درست سوچ نہیں۔

صارف کو سولر سسٹم کی لاگت، بیٹری کی قیمت، سالانہ بچت اور متوقع Payback Period کو ایک ساتھ مد نظر رکھنا چاہیے۔

مثال کے طور پہ کسی صارف نے دن میں 20 یونٹ سولر بجلی پیدا کی۔

اگر وہ دن میں 15 یونٹ خود استعمال کر لیتا ہے اور صرف 5 یونٹ گرڈ کو بھیجتا ہے تو صارف کو زیادہ مہنگی گرڈ بجلی خریدنے سے 15 یونٹ کی بچت حاصل ہوجاتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے خیبرپختونخوا سولر اسکیم بھی دیکھیں۔

اس کے برعکس اگر وہ صرف 5 یونٹ خود استعمال کرے اور 15 یونٹ گرڈ کو بھیج دے تو بڑی مقدار کم شرح پر فروخت ہو جائے گی۔

اسی لیے نئے نظام میں سولر سسٹم کا اصل فائدہ صرف کتنی بجلی پیدا ہوئی سے نہیں ہے بلکہ کتنی بجلی براہِ راست خود استعمال کی  سے بھی طے ہوجاتا ہے۔

سولر کی معاشی افادیت ابھی بھی ختم نہیں ہوئی، لیکن سرمایہ کاری کا طریقہ کار تبدیل ہو گیا ہے۔

اگر گھر یا کاروبار دن کے اوقات میں زیادہ بجلی استعمال کرتا ہے تو سولر میں سرمایہ کاری اب بھی قابلِ غور ہو سکتی ہے، کیونکہ خود پیدا کی گئی بجلی براہِ راست گرڈ سے مہنگی بجلی خریدنے کی ضرورت کو کافی حد تک کم کردیتی ہے۔

لیکن اگر کسی صارف کا بنیادی مقصد اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرنا ہے تو نئی پالیسی کے تحت اسے پرانے دور کے مقابلے میں مالی فائدہ خاصہ کم مل سکتا ہے۔

اس لیے سولر خریدنے سے پہلے صرف یہ سوال نہ کریں کہ:

“10 کلو واٹ کا سولر سسٹم کتنے سال میں پیسے پورے کرے گا؟”

بلکہ یہ بھی پوچھیں:

  • روزانہ میری بجلی کی کھپت کتنی ہے؟
  • دن کے وقت کتنی بجلی استعمال ہوتی ہے؟
  • رات کے وقت کتنی ضرورت ہوتی ہے؟
  • سالانہ سولر پیداوار کتنی ہوگی؟
  • کتنی بجلی خود استعمال ہوگی؟
  • کتنی گرڈ کو برآمد ہوگی؟
  • موجودہ برآمدی شرح کیا ہے؟
  • بیٹری کی ضرورت ہے یا نہیں؟
  • سسٹم کی دیکھ بھال اور مستقبل کی replacement cost کتنی ہوگی؟

2026 کے فریم ورک کو سمجھنے کے لیے یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔

پرانے صارفین: جن کے پاس پہلے سے درست اور نافذ معاہدہ/منظوری موجود ہے، ان کے حقوق کو متعلقہ قواعد اور بعد کی حکومتی ترامیم کے مطابق دیکھا جائے گا۔ 2025 میں حکومت نے بھی واضح کیا تھا کہ درست موجودہ معاہدوں کو ان کی مدت کے دوران نئے ریٹ کے اطلاق سے استثنا حاصل ہوگا۔

نئے صارفین: ان کے لیے 2026 کے Prosumer Regulations بنیادی فریم ورک ہیں، جس میں نیٹ بلنگ اور برآمدی بجلی کی الگ قیمت کا تصور شامل ہے۔ اسی لیے کسی پرانے سولر صارف کا بل دیکھ کر نئے درخواست گزار کے لیے مستقبل کی آمدنی کا اندازہ لگانا درست طرز عمل نہیں۔

نیپرا (NEPRA) نے 6 اگست 2026 کو باضابطہ نوٹیفکیشن S.R.O. 1330(I)/2026 کے ذریعے پروزیومر ریگولیشنز میں مزید اہم ترامیم کو نافذ کر دیا ہے۔ اس تازہ  پیش رفت کے بعد نیٹ میٹرنگ اور پروزیومر نظام سے متعلق چند بنیادی قانونی و انتظامی شرائط مکمل تبدیل ہو چکی ہیں۔

  • فروری اور مارچ 2026 کے ضوابط پر عدم انحصار: سال کے اوائل (فروری یا مارچ) میں جاری کردہ ابتدائی قواعد اب مکمل طور پر مؤثر نہیں رہے، اس لیے پرانی دستاویزات یا مارکیٹ میں گردش کرنے والی پچھلی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ لینے سے گریز کریں۔
  • صارفین کے لیے احتیاطی تدابیر: نیٹ میٹرنگ کی نئی درخواست جمع کروانے سے پہلے 6 اگست کے نوٹیفکیشن کی رو سے درج ذیل امور کی تصدیق لازمی بنائیں:
    • نیپرا کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود تازہ ترین ریگولیشنز کو احتیاط سے چیک کریں۔
    • متعلقہ تقسیم کار کمپنی (جیسے PESCO وغیرہ) کے پورٹل پر جا کر اگست 2026 کی ترامیم کے تحت اپ ڈیٹ شدہ طریقہ کار (Standard Operating Procedures – SOPs) چیک کرلیں۔
    • وینڈر کے ساتھ معاہدہ طے کرنے سے پہلے اس بات کی تسلی کر لیں کہ سسٹم کا ڈیزائن اور درخواست کی فائلنگ نئے قانونی فریم ورک سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

خیبر پختونخوا میں سولر سسٹم لگانے والے صارفین کے لیے چند باتیں خاص طور پر اہم ہیں:

1۔ پہلے اپنا بجلی کا استعمال سمجھیں۔
صرف پڑوسی کے سسٹم کو دیکھ کر 10 یا 15 کلو واٹ کا سولر سسٹم نہ لگائیں۔

2۔ دن کے وقت کی کھپت بڑھائیں۔
واشنگ مشین، پانی کی موٹر اور دیگر زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات ممکن ہو تو دن کے اوقات میں استعمال کریں ۔

3۔ وینڈر کی بات پر اندھا اعتماد نہ کریں۔
“گرین میٹر لگوا دیں گے”، “بل صفر ہو جائے گا” یا “فکس بائی بیک ریٹ ہمیشہ یہی رہے گا” جیسے دعووں پہ یقین کرنے کے بجائے اس کی سرکاری قواعد سے پہلے  تصدیق کریں۔

4۔ سرکاری رسیدیں محفوظ رکھیں۔
فیس اور درخواست سے متعلق ہر ادائیگی کا ریکارڈ رکھیں۔

5۔ PESCO/TESCO اور NEPRA کے تازہ قواعد دیکھیں۔
 اس شعبے میں پالیسی اکثر تبدیل ہو تی رہتی ہے، اس لیے پرانے یوٹیوب ویڈیوز یا چند سال پرانے مضامین پر فیصلہ نا لیں۔

خیبر پختونخوا میں سولر توانائی کا رجحان بجلی کے بڑھتے اخراجات اور گرڈ پر انحصار کم کرنے کی ضرورت کے باعث برقرار رہنے اور اس میں اضافے کا امکان ہے، لیکن نیٹ میٹرنگ پالیسی 2026 نے اس سرمایہ کاری کا مالی ماڈل کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔

اب نئے صارفین کے لیے اصل حکمت عملی صرف اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرنا نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ سولر بجلی کو خود استعمال میں لانا، درست کپیسٹی کا نظام لگانا اور ضرورت کے مطابق بیٹری اسٹوریج کا جائزہ لینا ہے۔

PESCO اور TESCO کے دائرہ کار میں آنے والے صارفین کو یہ بات بطور خاص ذہن نشین کرنی چاہیے کہ سال 2026 کے دوران نیٹ میٹرنگ اور پروزیومر قوانین میں ایک سے زائد بار تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔

 نیپرا کے موجودہ قانونی فریم ورک میں بنیادی پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے علاوہ اپریل 2026 اور اگست 2026 کی ترامیم بھی باقاعدہ طور پر نافذ ہو چکی ہیں۔ اس لیے صارفین کے لیے سال کے اوائل یا پرانی گائیڈلائنز پر انحصار کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے درخواستوں میں تکنیکی یا قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

 کسی بھی وینڈر کے ساتھ حتمی معاہدہ کرنے، سامان خریدنے یا فائل جمع کروانے سے پہلے نیپرا کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود اصل قواعد اور دونوں حالیہ ترامیم کو دیکھنا بہت ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ PESCO اور TESCO کے تازہ ترین نافذ شدہ طریقہ کار اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی تصدیق بھی لازمی طور پہ کر لینی چاہئے تاکہ کنکشن کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ کا سامنا نا کرنا پڑے۔

مختصر یہ کہ سولر سسٹم یا گرین میٹر کے لیے حتمی فیصلہ کرتے وقت وینڈر کے اندازے کے بجائے تازہ ترین NEPRA قواعد، متعلقہ DISCO کے SOP، موجودہ برآمدی شرح، صارف کے اصل لوڈ اور اپنے روزانہ بجلی کے استعمال کو سامنے رکھنا چاہیے۔ یہی طریقہ PESCO اور TESCO کے صارفین کو غیر ضروری اخراجات اور غلط مالی توقعات سے بچا سکتا ہے۔

📤 شیئر کریں: 📱 واٹس ایپ 📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

Leave a Comment

📊 KP آج — لائیو
Monday، 7 September 2026
اسلامی تاریخ — 2026
🌤️ پشاور
38°C
صاف آسمان، گرم
💵 USD/PKR
278
▲ تازہ
⛽ پیٹرول
248 Rs
▼ فی لیٹر
🥇 سونا
236K
▲ تازہ

📱 واٹس ایپ الرٹ

KP کی تازہ خبریں اور جابز — سیدھے واٹس ایپ پر پائیں

📲 ابھی جوائن کریں
KP Updates