پشاور کا ماضی ثقافت، روایات اور مہمان نوازی سے بھرا ہوا ہے۔ اسے ماضی میں پھولوں کا شہر بھی کہا جاتا تھا کیونکہ یہ باغوں اور پھولوں کی سرزمین تھا، جو بڑھتی ہوئی آبادی اور بے ہنگم تعمیرات کی وجہ سے اپنی رونق کھو بیٹھا۔
اب حکومتِ خیبرپختونخوا کی جانب سے شروع کردہ Peshawar Revitalization Program کے تحت اس شہر کو اس کی پرانی خوبصورتی اور ہریالی کی طرف لوٹانے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں کچھ اقدامات اٹھائے اسکی خوبصورتی کو بحال کرنے کیلئے لیکن ماضی کی دہشت گردی کے واقعات نے وہ سب ملیا میٹ کر دیا تھا۔ جو

موجودہ خیبرپختونخوا حکومت نے بالآخرکچھ سنجیدہ اقدامات اٹھاتے ہوئے پشاور کو جدید، منظم اور عوام دوست شہر بنانے کے لیے پشاور ریوائٹلائزیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت اربوں روپے کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
ان منصوبوں کا مقصد شہر کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنا، ٹریفک کے مسائل کا حل، شہری سہولیات میں اضافہ، ماحول کی بہتری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ منصوبےنا صرف سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر بلکہ پشاور کے شہریوں کو بہتر معیارِ زندگی، محفوظ سفری سہولیات، سرسبز ماحول اور جدید شہری انفراسٹرکچر فراہم کرنے کی ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
Peshawar Revitalization Program کے تحت منظور کیے گئے اہم ترقیاتی منصوبے
منظور شدہ منصوبوں میں شہر کے مختلف شعبوں کی ترقی کو مدنظر رکھا گیا ہے، جن میں پارکس، سڑکیں، ٹریفک، ڈرینیج، بجلی، ریلوے اور مستقبل کے انفراسٹرکچر منصوبے شامل ہیں۔
34 عوامی پارکس کی بحالی اور اپ گریڈیشن
حکومت نے 999.7 ملین روپے کی لاگت سے پشاور کے 34 عوامی پارکس کی بحالی، تزئین و آرائش اور جدید سہولیات کی فراہمی کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے سے شہریوں کو بہتر تفریحی مقامات اور سرسبز ماحول میسر آئے گا۔
اگر آپ عوامی پارکس کی اپگریڈیشن پہ تفصیلی آرٹیکل پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لنک آپ کیلئے ہے

بجلی کی تاریں زیر زمین منتقل کرنے کا منصوبہ
5.24 ارب روپے کی لاگت سے پیر زکوڑی سے کارخانوں مارکیٹ تک بجلی کی اوور ہیڈ تاروں کو زیر زمین منتقل کیا جائے گا، جس سے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ، بجلی کی فراہمی میں بہتری اور نا خوشگوار حادثات کے خطرات میں کمی آئے گی۔

یونیورسٹی روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں کی بحالی
1 ارب روپے کے منصوبے کے تحت کارخانوں مارکیٹ سے امن چوک تک یونیورسٹی روڈ اور سوری پل سے چمکنی اسٹیشن تک سڑکوں کی ری سرفیسنگ اور بحالی کی جائے گی تاکہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنایا جا سکے۔
رنگ روڈ فیز ٹو کی تعمیر
9.673 ارب روپے کی لاگت سے ورسک روڈ سے ناصر باغ روڈ تک رنگ روڈ کے شمالی حصے (فیز-II) کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے، جو شہر کے ٹریفک نظام کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ٹریفک مسائل کے مستقل حل کے لیے فزیبلٹی
50 ملین روپے کی لاگت سے رنگ روڈ اور کوہاٹ روڈ چوک پر ٹریفک کے دیرینہ مسائل کو مستقل ختم کرنے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی اور انجینئرنگ ڈیزائنکو بھی منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
شاہی کھٹہ نالہ کی بحالی
3.438 ارب روپے سے شاہی کھٹہ نالہ (Shahi Khatta Drain) کی بحالی اور بہتری کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے، جس سے نکاسی آب کے نظام میں مسائل میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
پشاور ویلی سب اربن ریلوے منصوبہ
100 ملین روپے کی لاگت سے پشاور ویلی ریلوے کے تحت مضافاتی (Suburban) ریل سروس کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی اور منصوبہ بندی کی منظوری دی گئی ہے، جس سے مستقبل میں جدید پبلک ٹرانسپورٹ کی راہ ہموار ہوگی۔

نئی رنگ روڈ کی فزیبلٹی
حکومت نے 50 ملین روپے سے پشاور کے لیے نئی رنگ روڈ کی تعمیر کے فزیبلٹی اسٹڈی کی بھی منظوری دی ہے تاکہ مستقبل کی ٹریفک ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جا سکے۔
شہریوں کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟
ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد امید ہے کہ پشاور میں ٹریفک جام اور روڈ حادثات میں نمایاں کمی آئے گی، سفر زیادہ محفوظ اور تیز ہوگا، نکاسی آب کا نظام بہتر ہوگا، پارکس اور عوامی مقامات کی حالت میں نمایاں بہتری آئے گی جبکہ جدید انفراسٹرکچر سے کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی تاروں کو زیر زمین منتقل کرنے اور سرسبز مقامات کی بحالی سے شہر کی خوبصورتی اور ماحول دونوں بہتر ہوں گے، جبکہ مستقبل کی شہری ضروریات کے مطابق ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔
نتیجہ
پشاور ریوائٹلائزیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت منظور کیے گئے یہ منصوبے لوگوں کی جانب سے شہر کو جدید، محفوظ اور پائیدار شہر بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔
اگر یہ منصوبے مقررہ وقت اور معیار کے مطابق تکمیل پا لیتے ہیں تو پشاور نا صرف شہریوں کیلئے بہترین سہولیات سے آراستہ ہوجائے گا بلکہ سرمایہ کاری، کاروبار اور سیاحت کے لیے بھی مزید پرکشش شہر بن سکتا ہے۔ جس کے اثرات نا صرف صوبے کی ترقی اور معیشت بلکہ ملک کی معیشت پہ بھی نظر آئیں گے۔