(PEHL 911 Helpline): دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں عوام کو ملک کے اہم ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کیونکہ ملک کے تمام امور بطور خاص مالی معاملات اسی عوام کے ٹیکسوں سے چلائے جاتے ہیں۔
جتنا عوام کا اپنی ریاست پر اعتماد کا لیول مضبوط ہوگا، اتنا ہی اس ملک میں کاروبار ترقی کرے گا جو ملک کی خوشحالی کا ایک اہم سبب بنتا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک اپنی عوام کو ہرقسم کی سہولت دینے کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ناگہانی حادثے کی صورت میں ان کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم کم سے کم وقت میں پہنچ کر متاثرین کومدد فراہم کرتی ہے۔
اس قسم کی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکا میں 911 اور برطانیہ میں 999 ایمرجنسی سروسز 24/7 اپنے شہریوں کی مدد کے لیے تیار رہتی ہیں۔

اگر قریب میں اس کی مثال دیکھیں تو متحدہ عرب امارات میں 999 جو روڈز پر حادثات کی صورت میں فوری ردِعمل دیتی ہے، اور سعودی عرب میں بھی 999 اور 112 جیسی سروسز عوام کی سہولت کے لیے مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے، تو ماضی میں ہمارے ہاں اس سلسلے میں مایوسی نظرآتی ہے اوراس قسم کی ایک مربوط اور یکجا سروس کا فقدان تھا اور حکومتی سطح پر بھی کوئی ایسی ٹھوس منصوبہ بندی نظر نہیں آئی جو تمام اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کرکسی بھی ناگہانی حادثے یا صورتحال میں شہریوں کی فوری مدد کر سکے۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے پہلے Pakistan Emergency Helpline (PEHL 911) کا تصور متعارف کرایا گیا۔ جو بعد میں پختونخوا ایمرجنسی ہیلپ لائن (PEHL 911) کہلائی۔
اہم وضاحت: بعض جگہوں پر اسے “پاکستان نیشنل ایمرجنسی ہیلپ لائن” کے نام سے پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں 2026 تک یہ سروس پورے پاکستان میں فعال نہیں بلکہ فی الحال صرف خیبر پختونخوا میں دستیاب ہے، جسے Pakhtunkhwa Emergency Helpline (PEHL 911) بھی کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں PEHL 911 Helpline ایمرجنسی نظام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ماضی میں پاکستان کے اندر ایمرجنسی امداد حاصل کرنے کے لیے درج ذیل بڑی مشکلات کا سامنا تھا:
- متعدد نمبرز کا الجھاؤ: اس سروس کے آغاز سے پہلے پولیس کے لیے 15، ریسکیو کے لیے 1122، فائر بریگیڈ، موٹروے پولیس اور مختلف ایمبولینس سروسز کے لئے الگ الگ نمبرز مختص ہونے کی وجہ سے ہنگامی حالت میں صحیح نمبر یاد رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا تھا، اور بعض اوقات اداروں کے دائرہ کار میں الجھاو کی کیفیت بھی سامنے آتی تھی۔
- ردِعمل میں تاخیر (Delayed Response): مختلف اداروں کے درمیان مربوط رابطے کے فقدان کے باعث امدادی ٹیمیں بروقت حادثے کے جائے وقوعہ پہنچنے سے قاصر ہوتی تھی، جو بڑے نقصان کا سبب بنتا تھا۔
- جغرافیائی حدبندیاں: صوبائی یا ضلعی حدود کی پابندیوں کے باعث ریسکیو ادارے ایک دوسرے کے دائرہ اختیار پر انحصار کرتے تھے، جو متعدد قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث ہوتا تھا۔

انہی مسائل کے پیشِ نظر “ون نیشن، ون ہیلپ لائن” (One Nation, One Helpline) کے تصور کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی گئی۔
PEHL 911 ہیلپ لائن کا پس منظر اور تاریخ:
- 2021–2022: قومی آغاز (جناب عمران خان دور)
- 2023–2024: صوبائی معطلی
- 2026: خیبر پختونخوا میں بحالی
1. قومی سطح پر آغاز (2021–2022)
اس منصوبے کا تصور سابق وزیراعظم جناب عمران خان کے دورِ حکومت میں پیش کیا گیا، جسے Pakistan Emergency Helpline (PEHL) 911 کا نام دیا گیا۔ جس کا بنیادی مقصد پورے ملک کے 36 مختلف ایمرجنسی نمبرز (پولیس، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، موٹروے پولیس وغیرہ) کوضم کر کے ایک ہی ملک گیر سروس 911 کو عوامی اور ادارہ جاتی سہولت کیلئے شروع کرنا تھا۔
یہ منصوبہ سیالکوٹ موٹروے پر پیش آنے والے ایک الم ناک واقعے کے بعد مرتب کیا گیا، اور اسلام آباد میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر لانچ ہوا۔ اس منصوبے کی نگرانی نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NTC) اور وزارتِ داخلہ کے پاس تھی۔
2. صوبائی سطح پر معطلی اور چیلنجز
قومی سطح پر یہ پراجیکٹ مسلسل انتظامی اور مالی مشکلات کی وجہ سے زیادہ عرصہ فعال نہ رہ سکا:
- پنجاب: حکومتِ پنجاب نے اگست 2023 میں اپنے PEHL 911 پراجیکٹ کو غیر مؤثر ہونے اور بھاری اخراجات کی وجہ سے بند کر دیا۔
- وفاقی/قومی سطح: پورے ملک کی سطح پر یہ منصوبہ غیر واضح وجوہات کی بنا پر فروری 2024 میں معطل ہو گیا۔
3. خیبر پختونخوا میں باضابطہ آغاز (2026)
خیبر پختونخوا حکومت نے ملک کے پہلے صوبے کی حیثیت سے اپنے طور پر ایک مکمل اور مربوط ( PHEL 911) ایمرجنسی سروس کو دوبارہ جدید بنیادوں پرمربوط کر کے فعال کیا۔ اس سروس کا باضابطہ افتتاح وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے کیا۔
مارچ 2026 میں اس کو تجرباتی طور پہ شروع کیا گیا تھا، اور جون 2026 تک اس ہیلپ لائن پر 47 لاکھ سے زائد کالز موصول ہو چکی تھیں ( 47 لاکھ مختلف ذرائع سے دستیاب معلومت کے بعد شامل کیا گیا جو ہو سکتا ہےمکمل سہی نا ہو)
ان وصول شدہ کالز میں سے کافی تعداد غیر متعلقہ یا شرارتی کالز کی تھی۔ یہ سروس 24 گھنٹے، ساتوں دن دستیاب ہے اور اس میں ایک جدید SOS Alert Module بھی شامل ہے۔
سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟ (PEHL 911)
PEHL 911 Helpline کا ورک فلو انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ()ICT اور جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) پر مبنی ہے:

- کال کی موصولی (Call Ingestion): شہری اپنے موبائل یا لینڈ لائن سے 911 ڈائل کرتا ہے، جو پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹرز کے روٹنگ سسٹم کے ذریعے مرکزی کمانڈ سینٹر پہنچتی ہے۔
- لائیو لوکیشن ٹریکنگ (Geo-Location): سسٹم کالر کی سم اور موبائل ٹاور لوکیشن کی مدد سے اس کا مقام خودکار طور پر آپریٹر کی اسکرین پر ظاہر کر دیتا ہے، جس سے ایڈریس سمجھانے میں لگنے والا وقت بچ جاتا ہے۔
- کال کی درجہ بندی (Triage): آپریٹر فوری طور پر مسئلے کی نوعیت جانچتا ہے—طبی، جرم، آتشزدگی، یا سڑک حادثہ۔
- متعلقہ ادارے کو منتقلی (Dispatch): لوکیشن اور تفصیلات فوری طور پر قریب ترین ریسپانس ٹیم (ریسکیو 1122، پولیس یا موٹروے پولیس) کو کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے منتقل کر دی جاتی ہیں۔
PEHL 911 کے تحت فراہم کردہ اہم ایمرجنسی خدمات
| شعبہ | فراہم کردہ خدمت |
| طبی ایمرجنسی و ریسکیو | ریسکیو 1122، ایدھی اور چھیپا جیسی ایمبولینس سروسز کو یکجا کرنا۔ |
| قانون نافذ کرنے والے ادارے | چوری، ڈکیتی، تشدد یا ہراسانی کی صورت میں مقامی پولیس (15) کو متحرک کرنا۔ |
| خواتین و بچوں کا تحفظ | گھریلو تشدد، ہراسانی یا ایمرجنسی میں ترجیحی بنیادوں پر پولیس امداد۔ |
| موٹروے و ہائی وے سیفٹی | نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس (NH&MP – 130) کو گاڑی کی خرابی یا حادثے کی اطلاع۔ |
| آتشزدگی و ڈیزاسٹر مینجمنٹ | فائر بریگیڈ، پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کو لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب یا برف باری کی اطلاع۔ |
| سیاحوں کے لیے خصوصی امداد | خیبر پختونخوا کی سروس میں دور افتادہ سیاحتی مقامات کے لیے خصوصی رسپانس شامل ہے۔ |
یہ بھی پڑھیں: پولیس سہولت مرکز ایپ 2026 — کے پی پولیس کی تمام خدمات اب آپ کے موبائل پر
پرانے نظام اور PEHL 911 کا موازنہ
| پہلو | پرانا طریقہ کار | PEHL 911 نیا نظام |
| نمبرز یاد رکھنا | 10 سے زائد مختلف نمبرز | صرف ایک آفاقی نمبر (911) |
| لوکیشن کا تعین | شہری کو خود راستہ بتانا پڑتا تھا | جی پی ایس اور موبائل ٹاور کے ذریعے خودکار لوکیشن |
| ادارے کی منتقلی | غلط نمبر پر کال جانے پر دوبارہ ڈائل کرنا | مرکزی کنٹرول سینٹر کے ذریعے فوری منتقلی |
| ردِعمل کا وقت | 20 سے 40 منٹ (غیر یقینی) | نسبتاً کم اور قابلِ پیمائش وقت |

PEHL 911 Helpline سیاحوں اور مسافروں کے لیے کی اہمیت
اگر آپ کسی دور دراز یا پہاڑی علاقے—مثلاً وادیِ کلام، سوات، ناران، یا چترال—کا سفر کر رہے ہیں، تو PEHL 911 Helpline کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے:
- اجنبی مقامات پر لوکیشن کا مسئلہ: سیاحوں کو اکثر پہاڑی علاقوں یا اوشو فارسٹ جیسے جنگلات کے درست راستوں کا علم نہیں ہوتا۔ لوکیشن ٹریکنگ سسٹم مسافروں کی موجودگی کا خودکار اندازہ لگا لیتا ہے۔ تاکہ انکی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
- سفر کے دوران گاڑی کی خرابی: موٹروے M-16 یا شدید برف باری کے دوران گاڑی خراب ہونے پر موٹروے پولیس یا مقامی انتظامیہ سے فوری رابطہ ممکن ہو جاتا ہے۔ اور کسی بھی نا خوشگوار حادثے سے بچنا ممکن ہوگیا ہے۔
- طبی ہنگامی حالت: پہاڑی مقامات پر اچانک طبیعت خراب ہونے، لینڈ سلائیڈنگ یا کسی حادثے کی صورت میں قریب ترین ریسکیو سینٹر کو فوری الرٹ کیا جا سکتا ہے۔ اور قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا کی نئی PEHL 911 سروس میں باقاعدہ طور پر دور افتادہ سیاحوں کی امداد کو اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، جو سوات، کلام اور چترال جیسے مقبول سیاحتی مقامات کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
نوٹ: اگر آپ خیبر پختونخوا کے ایسے کسی بھی سیاحتی مقام کا سفر کرنے کی پلاننگ کر رہے تو روانگی سے پہلے اس ایمرجنسی نمر کو اپنے موبائلز میں سیو کر لیں تاکہ کسی بھی ناگہانی حادثے کی صورت میں بروقت مدد طلب کر سکیں۔
PEHL 911 کے استعمال کے لیے شہری ذمہ داریاں
- پرینک یا فرضی کالز سے گریز کریں: بلاوجہ کی جانے والی کالز کسی ایسے شخص کی جان لے سکتی ہیں جسے واقعی ایمرجنسی امداد کی ضرورت ہو۔ (خیبر پختونخوا میں شروع ہونے والی 47 لاکھ کالز میں سے بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہی غیر متعلقہ کالز کی تھی)۔
- واضح معلومات دیں: اپنا نام، مسئلے کی اصل نوعیت اور قریبی مشہور لینڈ مارک ضرور بتائیں۔ (اس مقصد کیلئے اپنے موبائل میں لوکیشن کو آن رکھ کے اپنے اور امدادی ٹیم کیلئے بہت آسانی پیدا کر سکتے لیکن اس علاقے کی موبائل سروس کے بارے میں پہلے سے معلومات لے کے وہی سم استعمال کریں تاکہ سم ڈیٹا سہی کام کر سکے)
- فون لائن کھلی رکھیں: کال کرنے کے بعد فون بند نہ کریں، تاکہ ریسکیو ٹیم اگر راستے کی تصدیق کے لیے دوبارہ رابطہ کر سکے۔ (سفر کے آغاز سے پہلے کوئی بھی اچھا پاور بنک اپنے ساتھ سامان میں رکھ لی اور اس بات کو یقینی بنا لیں کہ وہ فل چارج ہے تاکہ خدا ناخواسطہ کسی حادثے کی صورت میں آپ کا موبائل سوئچ آف نا ہو)
- بچوں کو آگاہ کریں: گھر کے بچوں کو 911 کا درست استعمال کی عملی تربیت ضرور دیں تاکہ وہ کسی ناگہانی صورتحال میں مطلوبہ عملے کو خود مدد کیلئے بلا سکیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
س: کیا PEHL 911 پورے پاکستان میں فعال ہے؟
ج: نہیں۔ 2026 تک یہ مکمل اور فعال سروس صرف خیبر پختونخوا میں دستیاب ہے۔ پنجاب نے اپنا ورژن 2023 میں بند کر دیا تھا اور قومی سطح کا منصوبہ پہلے ہی معطل کر دیا گیا تھا۔
س: PEHL 911 پر کال کرنے کے کیا چارجز ہوتے ہیں؟
ج: ایمرجنسی ہیلپ لائنز مکمل طور پر ٹول فری (Free) ہوتی ہیں، یعنی 911 پر کال کرنے پر کوئی بیلنس نہیں کٹتا۔
س: کیا لینڈ لائن سے بھی 911 ڈائل کیا جا سکتا ہے؟
ج: جی ہاں، کسی بھی موبائل سم اور پی ٹی سی ایل لینڈ لائن دونوں سے یہ نمبر ڈائل کیا جا سکتا ہے۔
س: اگر میں خیبر پختونخوا سے باہر ہوں تو ایمرجنسی میں کیا کروں؟
ج: خیبر پختونخوا سے باہر فی الحال روایتی نمبرز استعمال کریں—پولیس کے لیے 15، ریسکیو کے لیے 1122، اور موٹروے پولیس کے لیے 130۔
نتیجہ (Conclusion)
پاکستان میں ایک مربوط اور مشترکہ ایمرجنسی ہیلپ لائن کا خواب 2021 میں دیکھا گیا تھا، اور اگرچہ قومی سطح پر یہ منصوبہ مالی اور انتظامی مشکلات کا شکار ہو کر معطل ہو گیا، لیکن خیبر پختونخوا نے 2026 میں اپنے طور پر PEHL 911 کو دوبارہ فعال کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ نظام کتنا ضروری اور فائدہ مند ہے۔
امید ہے کہ اس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے دیگر صوبے بھی اپنے شہریوں کو اسی طرز کی خدمات فراہم کرنے کا نظام اپنائیں گے، تاکہ پورے پاکستان کے شہری اور سیاح ایک ہی نمبر یاد رکھ کر بروقت مدد حاصل کر سکیں۔
چاہے آپ گھر پر ہوں، سفر پر ہوں یا کسی دور دراز پہاڑی علاقے میں، ایمرجنسی نمبرز کا علم اور ان کا ذمہ دارانہ استعمال ہر شہری کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اور اس کے لئے خود بھی تربیت لیں اور اپنے گھر والوں کو بھی سکھائیں تاکہ کسی بھی نا خوشگوار حادثے یا ناگہانی صورتحال میں وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔