لوڈ ہو رہا ہے... | 🌤 پشاور: 38°C
خیبر پختونخوا

NADRA FRC & Succession Certificate KP 2026: مکمل طریقہ کار، فیس اور ضروری دستاویزات

کسی بھی شخص کے انتقال کی صورت میں اسکی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد، بینک بیلنس، اسکی کی گئی سرمایہ کاری، گاڑیوں وغیرہ  کی اس کے قانونی ورثا کو مختلف قانونی دستاویزات کی ضرورت پڑتی ہے ۔ جسکے بغیر خیبر پختونخوا یا پاکستان کا قانون وراثت کی قانونی منتقلی کی ممانعت کرتا ہے۔

ان دستاویزات میں فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) اور جانشینی سرٹیفکیٹ (Succession) بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں نافذ العمل جدید طریقہ کار کے تحت اب NADRA Succession Certificate KP 2026 کی سہولت کے ذریعے مرحوم کے اہلخانہ بغیر کسی عدالتی چکر کے باآسانی اور چند ہی دنوں میں جانشینی سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

NADRA FRC & Succession Certificate KP 2026

اس مضمون میں آسان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایف آر سی (FRC) کیا ہے، جانشینی سرٹیفکیٹ اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن میں کیا فرق ہے، نادرا میں درخواست کیسے جمع کروانی ہے اور کون سے مخصوص حالات میں یہ معاملہ عدالت تک لے جایا جا سکتا ہے۔

جانشینی سرٹیفکیٹ باقاعدہ ایک قانونی دستاویز ہے جو کسی شخص کی وفات پہ  قانونی ورثا کو اس کے منقولہ اثاثوں پر دعویٰ کرنے اور متعلقہ اداروں سے ان کی منتقلی یا وصولی کے لیے درکار ہوتی ہے۔

پاکستان میں قانونی طور پہ نادرا کو متعلقہ وفاقی اور صوبائی قوانین کے تحت جانشینی سرٹیفکیٹ اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی صوبائی قانون کے تحت نادرا یہ دستاویزات جاری کر تا ہے۔

یہ سہولت قانونی ورثا کی شناخت، ان کے خاندانی ریکارڈ اور اثاثوں کی تفصیلات کی تصدیق کے بعد متعلقہ قانونی دستاویز جاری کرتی ہے۔

ان دونوں دستاویزات کا تعلق وراثتی اثاثوں سے ہی ہے، لیکن استعمال اثاثے کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔

دستاویزبنیادی استعمال
جانشینی سرٹیفکیٹمنقولہ اثاثوں، مثلاً بینک اکاؤنٹس، سرمایہ کاری اور دیگر مالی اثاثوں کے لیے
لیٹر آف ایڈمنسٹریشنغیر منقولہ جائیداد، مثلاً زمین، مکان یا پلاٹ کے انتظام اور قانونی منتقلی کے لیے

یہ تفصیل نادرا کی طرف سے بھی جاری کی گئی ہے۔

یہ بات یاد رکھیں  کہ جانشینی سرٹیفکیٹ کے جاری ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تمام اثاثہ جات خودکار طور پر قانونی ورثا کو منتقل ہو جائیں گے۔ بلکہ اس کیلئے متعلقہ بینک، رجسٹریشن اتھارٹی یا دوسرےضروری  تقاضے بھی پورے کرنا پڑ سکتے ہیں۔

فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) نادرا کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکاری دستاویز ہے، جو کسی بھی رجسٹرڈ شہری کے خاندانی شجرے اور اس کے قانونی اہلِ خانہ کی مکمل تصدیق شدہ تفصیلات فراہم کرتا ہے۔

what is NADRA FRC Certificate

یہ سرٹیفیکیٹ بچے کی پیدائش، شادی یا کسی بچے کو قانونی طور پر گود لینے کی بنیاد پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وراثتی معاملات میں FRC کی بنیادی اہمیت ہے، کیونکہ نادرا مرحوم کے خاندانی ریکارڈ کی تصدیق اور تمام قانونی ورثا کی درست شناخت کے لیے اسی سرٹیفیکیٹ پر ہی انحصار کرتا ہے۔

ایف آر سی میں درج ذیل معلومات شامل ہو سکتی ہیں:

  • والدین اور بہن بھائیوں کی تفصیلات۔
  • شوہر یا بیوی اور بچوں کا ریکارڈ۔
  • خاندان کے دیگر متعلقہ افراد کی معلومات، جہاں قابلِ اطلاق ہو۔

اگر نادرا کے ریکارڈ میں کسی شخص کی معلومات موجود نہیں  یا کوئی غلطی ہو تو جانشینی سرٹیفکیٹ کی درخواست  جمع کروانےسے پہلے  یہ ریکارڈ درست کروانا بہت ضروری ہو تا ہے۔

نادرا کی آفیشل گائیڈ لائن کے مطابق جانشینی سرٹیفکیٹ یا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کے لیے عام طور پر درج ذیل شرائط پوری کرنا اہم ہیں:

  1. مقتول  پاکستانی شہری ہو۔
  2. اس کے قانونی ورثا کا بھی پاکستانی شہری ہونا ضروری ہے۔
  3. متعلقہ اثاثے پاکستان میں واقع ہوں۔
  4. درخواست گزار مرحوم کے قانونی ورثا میں سے ایک ہو۔
  5. ورثا اور اثاثوں کی تفصیلات درست اور قابلِ تصدیق ہوں۔

نادرا کے مطابق یہ درخواست دینے کے لیے قانونی ورثا میں سے کسی ایک کو مطلوبہ دستاویزات مکمل کرنے کے بعد متعلقہ نادرا مرکز میں ذاتی حیثیت میں جانا ہوتا ہے۔

اگر معاملے میں کوئی قانونی تنازع، ورثا کے درمیان اختلاف یا شناخت سے متعلق کوئی  پیچیدگی ہو تو درخواست کی تمام کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں کسی بھی متوفی کی غیر منقولہ جائیداد (جیسے زمین، مکان یا پلاٹ) کی قانونی و شرعی منتقلی کے لیے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن (Letter of Administration)  

ایک بنیادی اور اہم ترین قانونی دستاویز ہے۔

اس کے ذریعے قانونی ورثا متعلقہ جائیداد کے انتظام اور نام پہ منتقلی کی قانونی کارروائی آگے بڑھا سکتے ہیں، تاہم اراضی ریکارڈ میں باقاعدہ انتقال درج کروانے یا ملکیت کی تبدیلی کے لیے محکمہ مال، اراضی ریکارڈ سنٹر یا مجاز اتھارٹی کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

اس لیے درخواست دینے سے پہلے جائیداد کی مکمل تفصیلات، مقام، ملکیتی ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات تیار رکھنا ضروری ہیں۔

نادرا کا  جانشینی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست کا  طریقہ عام طور پہ درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے۔

نادرا سے جانشینی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ

مرحلہ 1: ضروری دستاویزات تیار کریں

متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈ کی منسوخی کا سرٹیفکیٹ، ایف آر سی، تمام قانونی ورثا کی فہرست اور اثاثوں کی مکمل تفصیلات جمع کریں۔ 

مرحلہ 2: نادرا کے متعلقہ مرکز سے رجوع کریں

قانونی ورثا میں سے کوئی ایک شخص مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ نادرا کے متعلقہ رجسٹریشن مرکز یا نامزد سہولت مرکز میں درخواست دے سکتا ہے۔

مرحلہ 3: قانونی ورثا اور اثاثوں کی تصدیق

نادرا متعلقہ خاندانی ریکارڈ، قانونی ورثا کی شناخت اور فراہم کردہ اثاثوں کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ جبکہ ضرورت کے مطابق بائیومیٹرک تصدیق بھی کی جا تی ہے۔

مرحلہ 4: عوامی نوٹس اور اعتراضات

درخواست کے بعد قانونی طریقہ کار کے تحت ایک عوامی نوٹس جاری کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دعوے یا اعتراض کو سامنے لایا جا سکے۔ 

مرحلہ 5: سرٹیفکیٹ کا اجرا

تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے اور کوئی قابلِ سماعت اعتراض باقی نا ہونے کی صورت میں نادرا جانشینی سرٹیفکیٹ یا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن جاری کر دیتا ہے۔

نادرا کی معلومات کے مطابق سرٹیفکیٹ کے اجرا کا وقت عوامی نوٹس کی اشاعت کے بعد عام طور پہ 14 دن  ہے۔ یہ مدت درخواست کی مکمل جانچ، اعتراضات یا دیگر پیچیدگیوں کی وجہ سے بڑھ سکتی ہے۔

درخواست دینے سے پہلے درج ذیل دستاویزات تیار رکھیں:

جانشینی سرٹیفکیٹ کے لیے ضروری دستاویزات
دستاویزمقصد
متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹوفات کی تصدیق
شناختی کارڈ کی منسوخی کا سرٹیفکیٹنادرا ریکارڈ میں وفات کی تصدیق
فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹخاندانی ریکارڈ کی تصدیق
تمام قانونی ورثا کے شناختی کارڈورثا کی شناخت
قانونی ورثا کی مکمل فہرستتمام مستحق افراد کی تفصیلات
اثاثوں کی تفصیلاتمتعلقہ منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کی شناخت
اجازت نامہ یا حلف نامہدرخواست گزار کو ورثا کی جانب سے کارروائی کا اختیار

نادرا کی جانب سے جاری کردہ آفیشل فہرست میں یہ تمام دستاویزات شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا کے قواعد میں قانونی ورثا اور اثاثوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ اجازت نامے اور حلف نامے کا ذکر بھی موجود ہے۔

اثاثوں کی فہرست میں  بہتر ہے کہ ہر اثاثے کی شناخت کے لیے دستیاب مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔

  • بینک اکاؤنٹ کی صورت میں بینک کا نام اور اکاؤنٹ کی تفصیلات۔
  • زمین یا مکان کی صورت میں مکمل مقام اور ملکیتی ریکارڈ۔
  • مشترکہ ملکیت کی صورت میں متوفی کے حصے کی تفصیل۔
  • دیگر مالی اثاثوں کی صورت میں متعلقہ ادارے اور اثاثے کی شناختی معلومات۔

خیبر پختونخوا کے سرکاری قواعد و ضوابط  میں بھی اثاثوں اور قانونی ورثا کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایات موجود ہے۔

نادرا کے جاری کردہ فیس اسٹرکچر کے مطابق جانشینی سرٹیفکیٹ اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کی نئی درخواست کے لیے فیس اثاثوں کی مالیت کے مطابق درج ہے۔

اثاثوں کی مالیتدرج شدہ فیس
ایک لاکھ روپے یا اس سے زیادہ20,000 روپے
ایک لاکھ روپے سے کم10,000 روپے
NADRA Succession Certificate

نادرا کے فیس اسٹرکچر میں مختلف صوبوں کے لیے بعض صورتوں میں اضافی فیس بھی درج ہے۔ اس لئے خیبر پختونخوا میں درخواست دینے سے پہلے متعلقہ نادرا مرکز سے قابلِ اطلاق فیس کی تصدیق لازمی کر لینی چائییے۔

یہ فیس صرف جانشینی سرٹیفکیٹ یا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن کے حصول کے لیے ہے۔ جائیداد کی منتقلی، اسکی رجسٹریشن، اسٹامپ ڈیوٹی یا دیگر متعلقہ کارروائیوں کے اخراجات الگ ہوتے ہیں۔

نادرااپنی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے کئی شناختی دستاویزات اور خاندانی ریکارڈ سے متعلق خدمات فراہم کررہا ہے۔ ایف آر سی کے لیے بھی آن لائن درخواست کی سہولت اس ایپ پہ موجود ہے۔

مزید جانیں: اب گھر بیٹھے نادرا سروسز، شناختی کارڈ اور POC بنوانے کی مکمل گائیڈ۔

تاہم نادرا کی جاری کردہ گائیڈ لائن کے مطابق جانشینی کیلئے ورثا میں سے ایک فرد کا ذاتی حیثیت میں نادرا کے سروس سینٹر  حاضری ضروری ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا درست نہیں کہ صرف موبائل ایپ سے درخواست دے کر مکمل جانشینی سرٹیفکیٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 

آن لائن دستیاب سہولت، بائیومیٹرک تصدیق اور ذاتی حاضری کی ضرورت کی تصدیق درخواست سے پہلے ضرور کریں۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نادرا پاک آئی ڈی (Pak ID) اور دیگر ڈیجیٹل شناختی خدمات فراہم کی گئی ہیں، جن کے ذریعے وراثتی کارروائی کے لئے نادرا پورٹل یا متعلقہ ایپ پر قانونی ورثا کے طور پر اپنی بائیومیٹرک تصدیق باآسانی مکمل کر سکتے ہیں۔

چونکہ جانشینی سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست گزار کی ذاتی حاضری اور قانونی ورثا کی تصدیق اہم تقاضوں میں شامل  ہیں۔ اسلئے اگر کوئی وارث بیرونِ ملک مقیم ہے تو درخواست سے پہلے متعلقہ نادرا مرکز سے چیک کریں کہ اس کی شناخت، بائیومیٹرک تصدیق اور اجازت نامے کی کارروائی کس طرح مکمل ہو سکتی ہے۔

نادرا کے ذریعے جانشینی سرٹیفکیٹ کا حصول  ہت تنازع کا متبادل نہیں ہے۔ کیونکہ بعض حالات میں قانونی کارروائی کیلئے عدالت سے رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہے، مثلاً:

  • اگر قانونی ورثا کے درمیان اثاثوں یا حصص پر کوئی اختلاف ہو۔
  • کسی شخص کی وراثت میں شمولیت یا قانونی حیثیت متنازع ہو جائے۔
  • فراہم کردہ دستاویزات یا خاندانی ریکارڈ میں تضاد موجود ہو۔
  • کسی اثاثے کی ملکیت یا متوفی کے حصے پر تنازع ہو۔
  • درخواست کے خلاف کوئی قانونی اعتراض سامنے آ جائے۔

اس صورت میں متعلقہ نادرا مرکز سے اعتراض کی نوعیت اور اگلے قانونی مرحلے کی تفصیل حاصل کرنا ضروری ہے۔ضروری نہیں کہ ہر معاملے میں عدالت جانا لازمی ہو، لیکن جہاں تنازع حل نا ہو وہاں قانونی مشورہ لینا بھی مناسب قدم ہے۔

جانشینی سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دیتے وقت چند باتوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے:

  1. تمام قانونی ورثا کے نام اور شناختی تفصیلات درست درج کریں۔
  2. کسی قانونی وارث کو جان بوجھ کر فہرست سے خارج نا کریں۔
  3. متوفی کے اثاثوں کی مکمل اور درست تفصیلات فراہم کریں۔
  4. ایف آر سی اور نادرا کے خاندانی ریکارڈ میں موجود غلطیوں کو پہلے درست کروائیں۔
  5. درخواست کی رسید اور متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھیں۔
  6. سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد متعلقہ بینک یا محکمہ مال کے تقاضے معلوم کریں۔

غلط معلومات یا جعلی دستاویزات فراہم کرنے پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نہیں۔ ایف آر سی صرف خاندان کے افراد کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے، جبکہ جانشینی سرٹیفکیٹ یا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن وراثتی اثاثوں کے لیے ایک قانونی دستاویز ہے۔

ہر معاملے میں یہ ضروری نہیں۔ اہل قانونی ورثا نادرا کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں، لیکن تنازع یا قانونی پیچیدگی کی صورت میں عدالت سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔

نادرا کے مطابق عوامی نوٹس کی اشاعت کے بعد 14 دن کے اندر جاری کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ وقت درخواست کی جانچ، اعتراضات اور دیگر قانونی تقاضوں کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

غیر منقولہ جائیداد کے لیے عام طور پہ لیٹر آف ایڈمنسٹریشن متعلقہ دستاویز ہے۔ جس کے جاری ہونے کے  بعد جائیداد کی منتقلی کے لیے متعلقہ محکمہ مال یا دیگر مجاز ادارے کی کارروائی مکمل کرناہوتی ہے۔

اگر خاندانی ریکارڈ میں غلطی ہو تو پہلے نادرا سے اس کی درستگی  کروانا بہتر ہے۔ درست اور مکمل خاندانی ریکارڈ جانشینی سرٹیفیکیٹ میں اہمیت رکھتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں نادرا کے ذریعے جانشینی سرٹیفکیٹ اور لیٹر آف ایڈمنسٹریشن حاصل کرنے کی سہولت قانونی ورثا کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ درخواست دینے سے پہلے ایف آر سی، ڈیتھ سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈ کی منسوخی، قانونی ورثا کی فہرست اور اثاثوں کی تفصیلات مکمل کرنا ضروری ہے۔

درخواست گزار کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ جانشینی سرٹیفکیٹ، لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اور ایف آر سی سب الگ الگ دستاویزات ہیں۔ درست معلومات اور مکمل دستاویزات کے ساتھ کارروائی کرنے سے غیر ضروری تاخیر اور پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

📤 شیئر کریں: 📱 واٹس ایپ 📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

Leave a Comment

📊 KP آج — لائیو
Thursday، 1 October 2026
اسلامی تاریخ — 2026
🌤️ پشاور
38°C
صاف آسمان، گرم
💵 USD/PKR
278
▲ تازہ
⛽ پیٹرول
248 Rs
▼ فی لیٹر
🥇 سونا
236K
▲ تازہ

📱 واٹس ایپ الرٹ

KP کی تازہ خبریں اور جابز — سیدھے واٹس ایپ پر پائیں

📲 ابھی جوائن کریں
KP Updates