لوڈ ہو رہا ہے... | 🌤 پشاور: 38°C
اوور سیز پاکستانی

NADRA Juvenile Card 2026: 18 سال کے کم عمر بچوں کیلئے کارڈ، فیس، اہلیت اور درخواست کا مکمل طریقہ 

پاکستان میں عام طور پہ شناختی کارڈ بنانے کی عمر18 سال مقرر ہے، اس سے کم عمر کے بچوں کیلئے “فارم ب” جاری کیاجاتا ہے۔ جو مختلف امور کیلئے بطور ایک شناختی دستاویز استعمال کیا جاتا ہے۔ 

اب حکومت نے 18 سال سے کم عمر بچوں کے شناختی ریکارڈ سے متعلق والدین کے لیے NADRA Juvenile Card  کا اجراء کیا ہے ۔ یہ کارڈ صرف نابالغ پاکستانی شہریوں کے لیے جاری کیا جاتا ہے جو متعلقہ بچے کی شناخت اور والدین یا قانونی سرپرست کے  درمیان تعلق کا  ثبوت فراہم کرتا ہے۔ NADRA کے مطابق 18 سال سے کم عمر ہر پاکستانی شہری Juvenile Card یا Child Registration Certificate (CRC) کے لیے اہل ہے۔ 

NADRA Juvenile Card 2026

یہ سہولت بطور خاص ان تمام والدین کے لیے اہمیت کی حامل ہے جو اپنے بچوں کے لیے شناختی دستاویز بنوانا چاہتے ہیں، بیرون ملک مقیم ہیں، یا ان کے پاس بچوں کا پہلے سے B-Form/CRC موجود ہے لیکن وہ پھر بھی باقاعدہ کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

Juvenile Card، NADRA کی جانب سے 18 سال سے کم عمر پاکستان بچوں کے لیے جاری کردہ ایک شناختی کارڈ ہے۔ یہ بالغ افراد کیلئے جاری ہونے والے  نارمل شناختی کارڈ  کا متبادل نہیں بلکہ صرف نابالغ شہریوں کے لیے علیحدہ شناختی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

نادرا (NADRA) کے مطابق جووینائل کارڈ بچے کی اپنی شناخت اوراس کے والدین یا قانونی سرپرست کے ساتھ بچے کے خونی رشتے کی تصدیق کرتا ہے، اس کے علاوہ  نادرا ریکارڈ میں بچے کے اندراج کا   یہ باقاعدہ ثبوت بھی ہے۔ 

NADRA Juvenile Card age terms

یہ بات رکھنی ضروری ہے کہ جووینائل کارڈ کو سی آر سی (ب فارم) کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔ سی آر سی نادرا میں بچے کی بعد از   پیدائش  اندراج کا ابتدائی  پیدائشی سرٹیفکیٹ ہے، جبکہ جووینائل کارڈ باقاعدہ چپ اور بائیومیٹرک خصوصیات سے لیس ایک سمارٹ شناختی کارڈ ہے۔

نادرا کے جاری کردہ فیس شیڈول کے مطابق، درخواست گزار اپنی ضرورت اور وقت کی مناسبت سے تین سروس کیٹیگریز (نارمل، ارجنٹ یا ایگزیکٹو) میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتا ہے:

کیٹیگریفیسمتوقع مدت
  Normal750 روپے31 دن
Urgent1,500 روپے23 دن
Executive2,500 روپے9 دن
Juvenile Card Fee

فیس سے متعلق یہ معلومات نادرا کی آفیسشل ویب سائٹ سے فراہم کی گئی ہیں اور فلحال کیلئے یہ کنفرم فیس ہے لیکن اس میں چونکہ تبدیلی ممکن ہے تو اپلائی کرنے سے پہلے آپ ایک بار نادرا کی ویب سائٹ سے لازمی چیک کر لیں۔

Juvenile Card بنوانے کے لیے سب سے اہم چیز  متعلقہ بچے کی پیدائش کا مستند ریکارڈ ہے۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے بچے کے لیے NADRA کے مطابق Computerized Birth Registration Certificate درکار ہوتا ہے، یہ دستاویز (برتھ سرٹیفیکیٹ)متعلقہ یونین کونسل، میونسپل کمیٹی یا کنٹونمنٹ بورڈ سے جاری کردہ اور باقاعدہ تصدیق شدہ  ہونی چاہیے۔

اگر کسی بچے کی  پیدائش  بیرون ملک ہوئی ہے تو ایسی صورت میں NADRA  کی ہدایات کے مطابق Detailed Birth Certificate یا S-1 Form قابلِ قبول دستاویزات میں شامل ہے۔ 

اس کے علاوہ:

  • Juvenile Card کے لیے بچے کی موجودگی متعلقہ دفتر میں لازمی ہے۔
  • بچے کی عمر کے مطابق تصویر اور بائیومیٹرک معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
  • والدین یا قانونی سرپرست کی شناختی معلومات بھی ریکارڈ سے متعلق ہونی  ضروری ہیں۔
  • درخواست کیلئے  NADRA کی جانب سے کچھ اضافی دستاویزات بھی طلب کی جا سکتی ہیں،اگر بچے یا والدین کے ریکارڈ میں کوئی تضاد ایا جائے۔

نادرا کے جاری کردہ موجودہ ضوابط کے مطابق، جووینائل کارڈ کے لیے بچے کی عمر کے لحاظ سے درکار بائیومیٹرک طریقہ کار مختلف ہو سکتا ہے۔ 

10 سال سے کم عمر:
تصویر اور Iris ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

10 سے 18 سال:
تصویر، فنگر پرنٹس اور Iris ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے والدین کیلئے بچے کو ساتھ لے کر NADRA مرکز جانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

نادرا نے اب پاک آئی ڈی (Pak ID) موبائل ایپ کے ذریعے بھی نئے جووینائل کارڈ کی درخواست  آن لائن جمع کروانے کی سہولت فرہم کر سی ہے۔

 اس کیلئے بچے کے والدین یا متعلقہ سرپرست کو ایپ پر لاگ اِن ہو کر ‘New Juvenile Card’ کا انتخاب کر نا ہوتا ہے، جہاں مطلوبہ کوائف کو درج کرنے کے ساتھ ضروری دستاویزات اپ لوڈ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ 

Juvenile Card Online Apply

یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ  آن لائن درخواست کی سہولت کی فراہمی سے NADRA مرکز جانے کی ضرورت ختم نہیں ہو جاتی، بچے کی تصویر اور عمر کے مطابق بائیومیٹرک تصدیق کے لیے NADRA Registration Centre جانا ضروری ہوتا ہے۔ 

درخواست کا عمومی طریقہ یہ ہے:

  1. PakID موبائل ایپ کھولیں۔
  2. اکاؤنٹ بنائیں یا موجودہ اکاؤنٹ میں لاگ اِن کریں۔
  3. New Juvenile Card منتخب کریں۔
  4. بچے کی مطلوبہ معلومات درج کریں۔
  5. مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کریں۔
  6. اگر NADRA مرکز جانے کی ہدایت ہو تو متعلقہ بچے کو ساتھ لے کر مرکز جائیں۔
  7. مقررہ فیس کی ادائیگی  کریں۔
  8. درخواست کی پیش رفت PakID کے ذریعے ٹریک کی جا سکتی ہے۔

نادرا کے مطابق شہری پاک آئی ڈی (Pak ID) پورٹل اور ایپ کے ذریعے  گھر بیٹھے متعلقہ شناختی دستاویزات کے لیے درخواست دینے، دستاویزات کو اپ لوڈ کرنے، فیس کی ادائیگی اور درخواست کا اسٹیٹس ٹریک کرنے جیسی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔ 

بہت سے والدین B-Form اور Juvenile Card کو ایک ہی دستاویز سمجھتے ہیں، حالانکہ دونوں کا فارمیٹ اور استعمال مختلف ہے۔

B-Form/CRC بچے کی NADRA میں ابتدائی رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ ہے، جبکہ Juvenile Card بچے کے لیے جاری کردہ کارڈ کی شکل میں ایک شناختی دستاویز ہے۔

 نادرا کے مطابق یہ دونوں دستاویزات  ہی اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی باضابطہ شناختی دستاویزات کے طور پر تسلیم کی جاتی ہیں۔ 

NADRA FRC اور جانشینی سرٹیفکیٹ کی مکمل معلومات یہاں پڑھیں۔

اس لیے اگر کسی بچے کا پہلے سے CRC موجود ہے تو والدین کا یہ بہت سمجھنا ضروری ہے کہ Juvenile Card ایک الگ کارڈ کی درخواست ہے جسے بنوانے کے تمام متعلقہ تقاضے پورے کرنے ضروری ہوتے ہیں۔

کسی بھی بچے کی شناخت کا درست اور قابلِ تصدیق ریکارڈ والدین کے لیےبہت سے معاملات میں اہمیت رکھتا ہے۔ بطور خاص جب بچے کی شناخت، والدین کے ساتھ تعلق یا NADRA ریکارڈ کی تصدیق درکار ہو تو درست شناختی معلومات فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

جووینائل کارڈ میں  بچے کی عمر کے لحاظ سے بائیومیٹرک ڈیٹا شامل ہونے سے اس کا شناختی ریکارڈ نادرا کے مرکزی ڈیٹا بیس میں زیادہ محفوظ اور منظم رہتا ہے ۔

بیرون ملک رہائشی پاکستانی خاندانوں کے لیے یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کر جاتاہے، کیونکہ ان کے بہت سے بچے بیرون ملک  پیدا ہوتے ہیں یا طویل عرصہ تک باہر قیام پذیر رہتے ہیں۔

نادرا کے قوائد و ضوابط کے مطابق، بیرونِ ملک پیدائش والے بچوں کی رجسٹریشن کے لیے تفصیلی برتھ سرٹیفکیٹ (Detailed Birth Certificate) یا ایس-1 فارم (S-1 Form) بطور بنیادی دستاویزی ثبوت قابل قبول ہوتا ہے۔

Overseas Pakistani Children

اس کا مطلب  کہ بیرون ملک قیام پذیر والدین کو اپنےبچے کا پاکستانی شناختی ریکارڈ بنواتے وقت سب سے پہلے بچے کی پیدائش سے متعلق تمام دستاویزات کو درست اور مکمل رکھنا چاہیے۔

اگر بچہ والدین کے پاس ہی  بیرون ملک  رہائش پذیر ہے اور پاکستانی شہریت کی شناختی دستاویز درکار ہے تو اس کیلئے NICOP بھی اہم دستاویز ہو سکتی ہے۔ NADRA کے مطابق NICOP بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی شہریوں کے لیے جاری کیا جاتا ہے، اور بیرون ملک پیدا ہونے والے پاکستانی بچوں کے لیے بھی اس کی اہلیت موجود ہو تی ہے۔ 

اسی لیے سمندر پار  پاکستانی والدین کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے قانونی اسٹیٹس اور انکی سفری ضروریات کے مطابق جووینائل کارڈ اور نائیکوپ (NICOP) کے درمیان فرق  واضح طور پہ سمجھ کر اپلائی کریں۔

اسکے علاوہ ہر بچے کے کیس اور درکار  تقاضوں کے مطابق شناختی دستاویز کا انتخاب مختلف ہو سکتا ہے۔

نادرا کے مطابق پاک آئی ڈی (Pak ID) سروس اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے شناختی  دستاویزات کیلئے آن لائن اپلائی،درکار دستاویزات کی اپ لوڈنگ، فیس کی آنلائن ادائیگی اور درخواست کی ٹریکنگ جیسی سہولیات گھر بیٹھے باآسانی حاصل کر سکتے ہیں۔ 

NADRA بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے مختلف شناختی خدمات بھی فراہم کرتا ہے، جن میں NICOP سمیت متعدد دستاویزات شامل ہیں۔ 

تاہم والدین کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ Juvenile Card کے لیےبچے کی موجودگی لازمی ہے اور عمر کے مطابق بائیومیٹرک عمل بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ 

Juvenile Card کی میعاد بچے کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔

  • 10 سال سے کم عمر بچے: کارڈ 10 سال کی عمر تک مؤثر رہتا ہے۔
  • 10 سے 18 سال کی عمر: کارڈ 18 سال کی عمر تک مؤثر رہتا ہے۔
  • 18 سال مکمل ہونے پر: جووینائل کارڈ کے بجائے 18 سال کی عمر پوری ہونے پر بالغ شہری کے لئے قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے حصول کا باضابطہ طریقہ کار اختیار کرنا ہوتا ہے۔

نادرا کے جاری کردہ ضوابط کے مطابق، جووینائل کارڈ کی مدتِ میعاد (Validity) بچے کی عمر کے دو اہم مراحل یعنی 10 سال اور 18 سال سے مشروط کی گئی ہے۔ 

چونکہ جووینائل کارڈ بنیادی طور پر 18 سال سے کم عمر (نابالغ) بچوں کی شناخت کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔اسلئے جب بچے کی عمر 18 سالتک پہنچتا ہے تو جووینائل کارڈ کی قانونی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔

جس کے بعد اسے بالغ شہری کے شناختی کارڈ (CNIC) کے حصول کے لیے باقاعدہ  نادرامیں اپلائی کرنا ہوتا ہے۔ نادرا نے ان تمام والدین کو باضابطہ یاد دہانیاں جاری کی ہیں جنہوں نے اپنےبچے کے  18 سال کی عمر کو پہنچنے کے باوجود تاحال اپنا پہلا قومی شناختی کارڈ نہیں بنوا یا۔

تمام والدین کے لیے بہتر ہے کہ اپنے بچے کے 18 سال پورے کرنے سے پہلے ہی اس کے شناختی کارڈ کے حصول کی تیاری پہلے سے کر لیں۔

دراصل یہ معاملہ صرف ملک میں  پیداشدہ بچوں تک محدود نہیں ۔ بلکہ بیرونِ ملک پیدا ئش والے پاکستانی بچوں کا شناختی ریکارڈ کا بھی نادرا کے ڈیٹا بیس میں باقاعدہ اندراج ہو سکتا ہے، تاہم ان کے کیس کے مطابق  پیدائشی دستاویزات کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ 

نادرا کے ضوابط کے مطابق، ایسے بچوں کے جووینائل کارڈ کے اجراء کے لیے متعلقہ ملک کا تفصیلی پیدائشی سرٹیفکیٹ (Detailed Birth Certificate) یا پاکستانی سفارت خانے کا جاری کردہ ایس-1 فارم (S-1 Form) بطور بنیادی دستاویزی ثبوت لازمی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ 

دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانی شہری بچوں کے لیے NICOP بھی ایک الگ شناختی دستاویز ہے، جو انکی بلوغت کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔اس لیے Overseas Pakistani والدین کو بچے کی شہریت، رہائش اور مطلوبہ شناختی مقصد کے مطابق متعلقہ دستاویز کا انتخاب درست کرنا چاہیے۔

Juvenile Card کے لیے اپلائی کرنے سے پہلے والدین کو بچے کے پیدائشی ریکارڈ میں نام، تاریخ پیدائش اور دیگر متعلقہ معلومات اچھی طرح چیک کر لینی چاہئیں۔

اگر Birth Certificate، CRC یا والدین کے NADRA ریکارڈ میں نام یا تاریخ پیدائش کا فرق موجود ہو تو درخواست کے دوران پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی طرح  بیرونِ ملک مقیم والدین کے لیے بچے کے تفصیلی برتھ سرٹیفکیٹ (Detailed Birth Certificate) یا ایس-1 فارم (S-1 Form)، والدین کے اپنا نادرا شناختی ریکارڈ اور شہریت سے متعلق ضروری دستاویزات کی پیشگی تیاری اور درست ترتیب درخواست کے عمل کو انتہائی آسان اور تیز رفتار بنا دیتی ہے۔

NADRA Juvenile Card 18 سال سے کم عمر پاکستانی بچوں کے لیے ایک اہم شناختی دستاویز میں شمار ہوتاہے۔ موجودہ دستیاب معلومات کے مطابق بچے کی عمر کے حساب سے تصویر، Iris اور فنگر پرنٹس لیے جاتے ہیں، جبکہ Juvenile Card کے لیے بچے کی نادرا آفس میں موجودگی لازمی ہے۔ 

نادرا کی جاری کردہ معلومات کے مطابق جووینائل کارڈ کی نارمل فیس 750 روپے ہے جس کا پراسیسنگ وقت 31 دن ہے، ارجنٹ کیٹیگری کی فیس 1,500 روپے اور پراسیسنگ مدت 23 دن ہے، جبکہ ایگزیکٹو کیٹیگری کی فیس 2,500 روپے ہے جس کی فراہمی 9 دن کے اندر کی جاتی ہے۔

اوور سیز پاکستانی خاندانوں کے لیے یہ بات خاصی اہمیت رکھتی ہے کہ بیرون ملک پیدا ہونے والے بچوں کے لیے پیدائش کی مخصوص دستاویزات درکار ہو تی ہیں، جبکہ بیرون ملک رہنے والے بالغ پاکستانی بچوں کے لیے NICOP بھی ایک علیحدہ آپشن ہے۔ 

اہم نوٹ: فیس، پراسیسنگ ٹائم اور آن لائن سروسز میں تبدیلی ممکن ہے، اس لیے درخواست جمع کرانے سے پہلے NADRA کی تازہ معلومات ضرور چیک کریں۔

📤 شیئر کریں: 📱 واٹس ایپ 📘 فیس بک 🐦 ٹوئٹر

Leave a Comment

📊 KP آج — لائیو
Tuesday، 6 October 2026
اسلامی تاریخ — 2026
🌤️ پشاور
38°C
صاف آسمان، گرم
💵 USD/PKR
278
▲ تازہ
⛽ پیٹرول
248 Rs
▼ فی لیٹر
🥇 سونا
236K
▲ تازہ

📱 واٹس ایپ الرٹ

KP کی تازہ خبریں اور جابز — سیدھے واٹس ایپ پر پائیں

📲 ابھی جوائن کریں
KP Updates